محمد امان اللہ 12 جولائی 2026
(اردو ورلڈ کینیڈا ویب نیوز)
واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں سفارتی اور سیاسی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد عالمی برادری نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل، بردباری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
حالیہ پیش رفت کے دوران دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھتے ہوئے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ یورپی ممالک نے بھی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن عالمی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں، سرمایہ کاری، شپنگ روٹس اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی منڈیاں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہوگی بلکہ عالمی معیشت میں استحکام لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ فی الحال عالمی برادری یہی امید کر رہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔