اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے تاریخی شہر لکسور کے قریب تقریباً تین ہزار سال پرانا ایک نادر مقبرہ دریافت کر لیا ہے جسے قدیم مصری تہذیب کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دریافت نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے تعاون سے کی۔مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق دریافت ہونے والا مقبرہ لکسور کے مغربی کنارے پر واقع ہے اور اسے "پاسر” نامی ایک شخصیت سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مقبرہ رامیسائی دور سے تعلق رکھتا ہے، جو مصر کے انیسویں اور بیسویں شاہی خاندانوں کے عہد پر مشتمل تھا۔ماہرین کے مطابق مقبرے کی تاریخ کا تعین اس پر موجود نقوش، کندہ کاری اور فنِ تعمیر کے منفرد انداز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
یہ مقبرہ نیو کنگڈم (1570 تا 1069 قبل مسیح) کے نجی تھیبن مقبروں کے روایتی طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ اس میں ایک کشادہ کھلا صحن، الٹے انگریزی حرف ” کی شکل میں چٹان کو تراش کر بنائی گئی عبادت گاہ اور زیرِ زمین متعدد کمرے شامل ہیں۔کھدائی کے دوران ماہرین کو مقبرے کے صحن میں کئی محفوظ تعمیراتی آثار بھی ملے ہیں، جن میں کچی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ایک مخصوص نشست شامل ہے، جہاں یادگاری کتبہ رکھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ داخلی راستے تک جانے والی پتھریلی سیڑھیاں اور ان کے دونوں جانب بنائے گئے راستے بھی دریافت ہوئے ہیں، جو اس مقبرے کی تعمیراتی مہارت اور قدیم مصری فنِ تعمیر کی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہیں۔تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ مقبرے کی مکمل دستاویز بندی، نقشہ سازی اور سائنسی تحقیق کا عمل جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہاں کس اہم شخصیت کو دفن کیا گیا تھا اور اس مقبرے کی تاریخی، مذہبی اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت سے نہ صرف قدیم مصری تہذیب کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے بلکہ یہ مستقبل میں مزید اہم آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر حکومت آثارِ قدیمہ کی نئی دریافتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاحت مصر کی معیشت کے لیے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے، جبکہ لکسور کو دنیا کے اہم ترین تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے مراکز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح قدیم مصری تہذیب کے آثار دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔