اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی ایک عدالت نے صوبے کے معروف علیحدگی پسند رہنماؤں میں شمار ہونے والے جیفری راتھ اور ان کی قانونی فرم کے 85 لاکھ ڈالر تک کے اثاثے عارضی طور پر منجمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس مائیکل میریئن نے گزشتہ ہفتے عبوری حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے راتھ اور ان کی لا فرم کو بدھ کے روز ہونے والی عدالتی سماعت تک ان اثاثوں کی منتقلی سے روک دیا۔
یہ مقدمہ ٹالکری فرسٹ نیشن اور اس کے سابق قانونی مشیر جیفری راتھ کے درمیان جاری قانونی تنازع کا حصہ ہے، جس کا تعلق 2017 میں قائم کیے گئے کروڑوں ڈالر مالیت کے ایک ٹرسٹ فنڈ کے کنٹرول سے ہے۔
ٹالکری فرسٹ نیشن کے چیف روپرٹ منین نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ جیفری راتھ نے ٹرسٹ سے تقریباً 64 لاکھ ڈالر غیر مناسب اور حد سے زیادہ قانونی فیس کی مد میں غلط طور پر حاصل کیے۔
عدالتی حکم میں جسٹس مائیکل میریئن نے کہا کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ اگر فوری حکم جاری نہ کیا گیا تو مقدمے کے فیصلے سے پہلے یہ اثاثے منتقل یا ضائع کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب جیفری راتھ نے جون میں عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی فیس ٹرسٹ معاہدے کی ان شقوں کے مطابق تھی جنہیں ٹالکری فرسٹ نیشن کے ارکان کی اکثریت نے منظور کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف کی جانب سے برسوں سے جاری قانونی کارروائیوں کے باعث ٹرسٹ کو مسلسل مقدمات اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔