اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں کوئلہ کان کنی کی ایک کمپنی پر ایک کارکن کی ہلاکت کے مقدمے میں جرم قبول کرنے کے بعد 3 لاکھ 60 ہزار کینیڈین ڈالر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
پریری مائنز اینڈ رائلٹی یو ایل سی (Prairie Mines and Royalty ULC) نے گزشتہ ہفتے آکیوپیشنل ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت کارکن کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکامی کا اعتراف کیا۔
البرٹا حکومت کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 25 نومبر 2023 کو ایڈمنٹن کے جنوب مغرب میں واقع واربرگ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کارکن پائپوں سے پانی اور برف صاف کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق پائپ میں جمی ہوئی برف کا ایک بڑا ٹکڑا اچانک اپنی جگہ سے نکل کر کارکن سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔
عدالت میں استغاثہ نے کمپنی کے خلاف عائد دیگر 11 الزامات واپس لے لیے۔
البرٹا حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جرمانہ "تخلیقی سزا” (Creative Sentence) کے تحت عائد کیا گیا ہے، جس کے مطابق جرمانے کی رقم کسی ایسے ادارے یا منصوبے کو دی جا سکتی ہے جو کام کی جگہوں پر صحت اور حفاظت کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہو۔
حکومت کے مطابق 3 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی یہ رقم البرٹا مائن سیفٹی ایسوسی ایشن کو دی جائے گی، جہاں اسے پانی نکالنے کے دوران محفوظ طریقۂ کار (Best Practices) اور کارکنوں کی تربیت کے پروگرام تیار کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔