بینک آف کینیڈا نے شرح سود مسلسل چھٹی بار 2.25 فیصد پر برقرار رکھی، معیشت میں بہتری کی توقع

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے مرکزی بینک بینک آف کینیڈا نے بدھ کے روز اپنی بنیادی شرح سود مسلسل چھٹی بار 2.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ سال کے آغاز میں سست روی کے باوجود ملکی معیشت میں آنے والے مہینوں میں بہتری کی توقع ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر ٹف میکلم نے کہا کہ اگرچہ معیشت اب بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے، تاہم بینک کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ اعتماد ہے کہ معیشت بتدریج ان مشکلات سے نکل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ شرح سود مہنگائی کو دوبارہ 2 فیصد کے ہدف تک لانے اور معاشی بحالی میں مدد دینے کے لیے مناسب ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو بینک اپنی مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹف میکلم نے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی توقع سے زیادہ عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہی تو اسے قابو میں رکھنے کے لیے آئندہ شرح سود میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال یہ مرکزی بینک کا بنیادی منظرنامہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینک کی آئندہ پالیسی کا بڑا انحصار عالمی توانائی کی منڈی پر ہوگا۔ اگر تیل اور گیس کی قیمتیں دوبارہ بڑھ کر طویل عرصے تک بلند رہیں تو مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ زیر غور آ سکتا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق حالیہ معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبر مارکیٹ اور مجموعی معیشت سال کے آغاز کی کمزوری کے بعد بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

بینک آف کینیڈا نے اعتراف کیا کہ سال کے آغاز میں معیشت توقعات کے برعکس سکڑ گئی، حالانکہ پہلی اور دوسری سہ ماہی میں 1.5 فیصد سالانہ شرح نمو کی توقع کی جا رہی تھی۔

ٹف میکلم نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی محصولات (ٹیرف)، عالمی غیر یقینی صورتحال اور آبادی میں سست رفتار اضافے نے معاشی نمو کو متاثر کیا۔

مرکزی بینک کی تازہ مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی پیداوار میں عارضی کمی اور سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومتی اخراجات میں غیر متوقع تاخیر ختم ہونے کے بعد دوسری سہ ماہی میں معیشت کی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ صارفین کے اعتماد، ہاؤسنگ مارکیٹ میں استحکام اور برآمدات میں بہتری سے معیشت کو سہارا مل رہا ہے۔ امریکا کو برآمدات میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس سے آئندہ مہینوں میں کاروباری سرمایہ کاری بڑھنے کی امید ہے۔

ٹف میکلم کے مطابق کاروباری ادارے بدلتے حالات سے خود کو ہم آہنگ کر رہے ہیں، سپلائی چینز کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں اور اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب مئی میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.2 فیصد ہوگئی، جس کی بڑی وجہ ایران میں جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور پیٹرول مہنگا ہونا تھا۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اب تک پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات دیگر اشیائے صرف پر محدود رہے ہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے اور پیٹرول کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔

ٹف میکلم نے کہا کہ اگر تیل کی بلند قیمتیں زیادہ عرصے تک برقرار رہیں تو ان کے اثرات دیگر اشیا اور خدمات تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم بینک اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مستقل مہنگائی کی شکل اختیار کر لے۔

مرکزی بینک آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث 2027 کے اوائل تک پیٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ ایندھن اور کھاد کی بلند قیمتوں کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی بھی کچھ عرصہ تک بلند رہ سکتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں