اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں نو افراد پر مشتمل ایک خاندان اپنے ہی خریدے گئے ڈوپلیکس میں منتقل نہ ہو سکنے کے باعث گزشتہ دو ہفتوں سے گھر کے باہر کھڑے کرائے کے ٹریلر میں رہنے پر مجبور ہے، جبکہ معاملہ کیوبیک کے ہاؤسنگ ٹربیونل میں زیر سماعت ہے۔
آرمیل فوکا نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال مونٹریال کے آہنٹسک-کارٹیرویل علاقے میں ایک ڈوپلیکس خریدا تھا۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک یونٹ میں جبکہ ان کے والدین دوسری رہائش گاہ میں منتقل ہوں گے، جب 30 جون کو موجودہ کرایہ داروں کے معاہدے ختم ہو جائیں گے۔
تاہم کرایہ داروں کی جانب سے مکان خالی نہ کیے جانے کے باعث فوکا، ان کی والدہ، دو بہنیں اور پانچ بچے گزشتہ دو ہفتوں سے گھر کے باہر کھڑے ایک کرائے کے ٹریلر میں زندگی گزار رہے ہیں۔
فوکا کا کہنا ہے کہ انہیں ٹریلر اور بجلی کے لیے جنریٹر بھی کرائے پر لینا پڑا، جس سے ایسے اضافی اخراجات آئے جن کا انہوں نے مکان خریدتے وقت تصور بھی نہیں کیا تھا۔
ٹریلر کے باہر لگے ہاتھ سے لکھے گئے ایک بورڈ پر درج ہے: "میں سڑک پر رہ رہا ہوں کیونکہ میرے گھر کے اندر موجود کرایہ دار میرا گھر خالی نہیں کر رہا۔”
فوکا نے کہا کہ انہوں نے کرایہ داروں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی رہائش کے لیے مکان واپس لینا چاہتی ہیں۔ اپنی نیت ثابت کرنے کے لیے انہوں نے اس گھر کا کرایہ بھی تجدید نہیں کیا جہاں وہ پہلے رہ رہی تھیں۔
ان کے مطابق جب کرایہ داروں کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تو انہوں نے کیوبیک کے ہاؤسنگ ٹربیونل (Tribunal administratif du logement – TAL) میں مکان واپسی کی درخواست دائر کر دی، تاہم کرایہ داروں نے اس کی مخالفت کر دی، جس کے بعد معاملہ عدالتی فیصلے کا منتظر ہے۔
ٹربیونل کے ترجمان ڈینس میرون نے بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات کی سماعت مالی سال 2025-26 کے دوران اوسطاً 2.2 ماہ میں مکمل کی جا رہی ہے اور فوکا کا مقدمہ بھی سماعت کے بعد فیصلے کے لیے محفوظ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹربیونل کے ارکان کے پاس مقدمہ محفوظ ہونے کے بعد فیصلہ سنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔
ترجمان کے مطابق کیوبیک کے قانون کے تحت مالک مکان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود رہنے یا اپنے قریبی اہل خانہ کو رہائش دینے کے لیے مکان واپس لے، تاہم اس کے لیے سول کوڈ میں مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کرایہ دار مکان خالی کرنے سے انکار کرے تو مالک مکان کو عدالت سے اجازت لینا ہوتی ہے اور یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی مقررہ تاریخ پر خود یا اپنے اہل خانہ کو وہاں منتقل کرنا چاہتا ہے، نہ کہ کسی اور مقصد کے لیے یہ کارروائی کر رہا ہے۔
ٹربیونل نے یہ بھی واضح کیا کہ کیوبیک میں مکان واپس لینے کا عمل کرایہ داروں کے رہائشی تحفظ کے بنیادی اصول سے ایک استثنا ہے، اس لیے ہر درخواست کا فیصلہ قانون کے مطابق شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔