اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایک نئے سروے کے مطابق کینیڈا کی بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز بجلی کے گھریلو بلوں میں اضافے اور ماحول پر منفی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
لیجر کے سروے کے مطابق 81 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے گھریلو بجلی کے بل بڑھ سکتے ہیں۔
اسی طرح 79 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش ہے، کیونکہ یہ مراکز بڑی مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کرتے ہیں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بھی بنتے ہیں۔
سروے میں جب کینیڈا میں مصنوعی ذہانت کی مقامی خدمات کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو 46 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی اور کہا کہ اس سے کینیڈا کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا، جبکہ 37 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔
اپنے اپنے صوبوں میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حوالے سے بھی عوامی رائے منقسم رہی۔ 44 فیصد افراد نے ایسے منصوبوں کی حمایت کی، جبکہ 42 فیصد نے مخالفت کا اظہار کیا۔سروے میں 62 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ پہلے ہی ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔
بجلی کی فراہمی سے متعلق سوال پر 58 فیصد افراد نے کہا کہ صوبائی حکومتیں یا بجلی فراہم کرنے والے ادارے ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کریں۔
تاہم تقریباً ایک تہائی افراد کا کہنا تھا کہ بجلی صرف اسی صورت فراہم کی جائے جب کمپنیاں بجلی اور ضروری انفراسٹرکچر کی مکمل لاگت خود ادا کریں، جبکہ 31 فیصد نے رائے دی کہ ڈیٹا سینٹرز چلانے والی کمپنیوں کو عوامی بجلی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور انہیں اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کرنی چاہییں۔
سروے کے مطابق کینیڈا میں آئندہ برسوں کے دوران ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جن میں سے بیشتر منصوبے البرٹا میں قائم کیے جانے کا امکان ہے، جہاں انہیں بجلی قدرتی گیس سے چلنے والے پلانٹس سے فراہم کی جا سکتی ہے۔
یہ آن لائن سروے 10 سے 13 جولائی کے درمیان 1,505 افراد سے کیا گیا۔