اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کے دوران ایک نئی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کاروں نے عبوری معاہدے کی بحالی کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ اس دوران آبنائے ہرمز کو 10 دن سے دو ہفتوں تک کھولنے کے مختلف امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجویز قابل قبول قرار پاتی ہے تو خطے میں فوجی تناؤ میں کمی، عالمی توانائی کی ترسیل کی بحالی اور مزید مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سفارتی سرگرمیوں میں تیزی
ایرانی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مختلف ممالک کے مذاکرات کار ایک ایسے عبوری فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد فوری طور پر جنگی کارروائیوں میں وقفہ پیدا کرنا ہے، تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی بات چیت کی جا سکتی ہے۔
عبوری معاہدے کی بحالی پر توجہ
ذرائع کے مطابق مجوزہ جنگ بندی کا اصل مقصد ایک ایسے عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال کرنا ہے جو کشیدگی میں کمی اور آئندہ جامع مذاکرات کی بنیاد بن سکے۔ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ مختصر مدت کی جنگ بندی اگر کامیاب رہتی ہے تو فریقین کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بھی نسبتاً بہتر ماحول میں بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔ اس دوران ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے جو مستقبل میں مستقل معاہدے کی راہ ہموار کریں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز کیوں اہم ہے؟
ایرانی عہدیدار کے مطابق مجوزہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کو 10 دن سے لے کر دو ہفتوں تک کھولنے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ دنیا کے کئی ممالک اپنی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر محدود مدت کے لیے بھی اس راستے کو مکمل طور پر فعال رکھا جاتا ہے تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال میں کمی آ سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
دنیا کی نظریں مذاکرات پر
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال پر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بلکہ بڑی عالمی طاقتیں بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مختلف ممالک کی خواہش ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے، کیونکہ طویل تنازع نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اسی لیے پس پردہ سفارتی رابطوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔
اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور
اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے دوران صرف فوجی کارروائیاں روکنے ہی پر بات نہیں ہو رہی بلکہ اعتماد سازی کے متعدد اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ ان میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی، متاثرہ علاقوں تک رسائی، قیدیوں کے تبادلے اور مستقبل کے مذاکرات کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کسی بھی بڑے معاہدے کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
اگر جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق ہو جاتا ہے اور آبنائے ہرمز محدود مدت کے لیے بھی معمول کے مطابق کھلی رہتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی بے یقینی میں کمی آ سکتی ہے جبکہ تیل اور گیس کی ترسیل سے وابستہ خدشات بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایسی پیش رفت بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی مثبت اشارہ سمجھی جائے گی۔
حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا
اگرچہ ایرانی حکام نے جنگ بندی اور عبوری معاہدے سے متعلق تجاویز کا ذکر کیا ہے اہم اب تک کسی بھی فریق کی جانب سے حتمی منظوری یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف نکات پر مشاورت جاری ہے اور آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام متعلقہ فریق کن شرائط پر اتفاق رائے قائم کرتے ہیں۔
آئندہ پیش رفت پر نظریں
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ تمام فریق کسی نہ کسی شکل میں کشیدگی میں کمی کا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف فوری طور پر خطے میں حالات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بلکہ مستقبل میں ایک جامع اور دیرپا معاہدے کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اس لیے آئندہ مذاکرات اور متعلقہ فریقوں کے سرکاری بیانات ہی اس تجویز کے عملی مستقبل کا تعین کریں گے۔