اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ٹورنٹو کے معروف سالسا آن سینٹ کلیئر فیسٹیول میں ہونے والی فائرنگ کے ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس مقبول ثقافتی تقریب کا مستقبل تاحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
فیسٹیول کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں دو افراد جان سے گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد عوامی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :بلوچستان میں مزدوروں پر فائرنگ، پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 افراد جاں بحق
اسی تناظر میں پیر کے روز ایک خصوصی سکیورٹی راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کیا گیا، کیونکہ فیسٹیول کے ایک بڑے اسپانسر نے واقعے کے بعد مستقبل میں اپنی مالی اور انتظامی حمایت واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔
اجلاس کا مقصد صرف گفتگو نہیں بلکہ عملی اقدامات تھا
اجلاس میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ واقعہ صرف خبروں تک محدود رہے بلکہ عوامی تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
یہ اجلاس ٹیلی لاطینو نیٹ ورک (TLN) کی جانب سے منعقد کیا گیا، جو سالسا آن سینٹ کلیئر فیسٹیول کا بانی اور مرکزی اسپانسر بھی ہے۔
ماں نے بچوں پر گزرنے والی ہولناک شام بیان کر دی
لاطینی کمیونٹی کی سماجی رہنما میرلین سولانو نے اجلاس میں اپنے خاندان پر گزرنے والی ہولناک صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک نوجوان خاتون کو گردن میں گولی لگتے دیکھی۔
انہوں نے بتایا کہ اسی دوران انہیں اپنی دس سالہ بیٹی کو بھگدڑ سے بچانے کے لیے فوری طور پر محفوظ مقام پر لے جانا پڑا۔
میرلین سولانو کے مطابق ان کے بیٹے نے تقریب میں پہنچتے ہی انہیں بتایا تھا کہ وہاں کا ماحول محفوظ محسوس نہیں ہو رہا کیونکہ متعدد افراد نے ماسک، ہوڈیز اور کمر پر چھوٹے بیگ پہن رکھے تھے، جس سے اسے خدشہ محسوس ہوا۔
تقریب میں گزشتہ سال تقریباً دس لاکھ افراد شریک ہوئے تھے
ٹیلی لاطینو نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اس فیسٹیول میں تقریباً دس لاکھ افراد شریک ہوئے تھے، تاہم حالیہ فائرنگ کے بعد ادارہ اس تقریب کی آئندہ سرپرستی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کر رہا ہے۔
ٹورنٹو کے ڈپٹی میئر اور سٹی کونسلر مائیک کولے نے کہا کہ ایسے واقعات پر صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں بلکہ سخت ردعمل اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں گینگز، اسلحہ اور نوجوانوں میں تشدد پر گفتگو
راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں عوامی تحفظ، اسلحے کی دستیابی، جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں اور نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں ٹورنٹو پولیس کے اعلیٰ افسران، شہری اور وفاقی سیاست دانوں کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔
ماہرین نے وبا کے بعد نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کو تشدد سے جوڑا
امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیے جانے والے محقق اروِن اسٹوڈن نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک محفوظ ٹورنٹو میں پروان چڑھے، لیکن 2020 کے بعد شہر کی صورتحال نمایاں طور پر بدل گئی ہے اور اب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ ضروری ہے۔ صرف سوشل میڈیا پر پیغامات دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ معاشرے کو نوجوانوں کے ساتھ عملی طور پر جڑنا ہوگا۔
قانونی اصلاحات سے بہتری کی امید
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب گزشتہ ماہ اوٹاوا کی جانب سے ضمانت اور سزاؤں سے متعلق فوجداری قانون میں نئی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔
شرکا کا کہنا تھا کہ امید ہے ان اصلاحات سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
ٹورنٹو پولیس کے 13 ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ ریان فورڈ نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اصلاحات درست سمت میں ایک قدم ہیں، تاہم ان کے عملی نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا۔
والدین اور اسکولوں کو بھی رہنمائی کی ضرورت قرار
میرلین سولانو نے کہا کہ صرف پولیس کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ والدین، اساتذہ اور اسکولوں کو بھی مناسب رہنمائی فراہم کرنا ہوگی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اب اسکولوں میں بھی جانے کی اجازت نہیں، جبکہ ماضی میں کئی ایسے اقدامات موجود تھے جو نوجوانوں کو جرائم سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔
فیسٹیول کے مستقبل پر فیصلہ تاحال نہیں ہوا
ٹیلی لاطینو نیٹ ورک کے صدر الڈو ڈی فیلیچے نے سٹی نیوز کو بتایا کہ ان کی توجہ اس وقت شہر، پولیس اور فیسٹیول انتظامیہ کے ساتھ عوامی تحفظ پر بات چیت جاری رکھنے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ادارہ آئندہ بھی فیسٹیول کی سرپرستی جاری رکھے گا یا نہیں۔
فائرنگ کی تحقیقات جاری، کوئی گرفتاری نہ ہو سکی
دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی مشتبہ افراد کے بارے میں مزید معلومات جاری کی گئی ہیں۔
ٹورنٹو پولیس کے 13 ڈویژن کے یونٹ کمانڈر نے اجلاس میں بتایا کہ فیسٹیول کے روز سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل تھے اور پولیس کے پاس ایسا کوئی انٹیلی جنس الرٹ موجود نہیں تھا جس سے فائرنگ کے خطرے کا اندازہ ہو سکتا۔