اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے نے ایک نئے بین الصوبائی معاہدے میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کا مقصد کینیڈا میں شراب کی فروخت پر موجود بڑی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مقامی بریوریوں، وائنریوں اور ڈسٹلریوں کو اپنے آبائی صوبے سے باہر بھی براہِ راست صارفین کو مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت ملے گی، جس سے کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کن صوبوں نے معاہدے پر دستخط کیے؟
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کے مطابق البرٹا نے سسکیچیوان، مانیٹوبا، اونٹاریو، نیو برنزوک، نووا اسکاٹیا، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ، نیوفاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور اور برٹش کولمبیا کے ساتھ براہِ راست صارفین کو شراب کی فروخت (Direct-to-Consumer Alcohol Sales Agreement) کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت البرٹا کے شراب تیار کرنے والے ادارے اپنی بیئر، وائن، اسپرٹس اور دیگر الکوحل مصنوعات براہِ راست دیگر شریک صوبوں کے صارفین کو فروخت کر سکیں گے۔
البرٹا کے کاروبار کے لیے نئے مواقع
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے البرٹا کے شراب تیار کرنے والے اداروں کے لیے نئی منڈیاں کھلیں گی اور انہیں ملک بھر میں زیادہ صارفین تک رسائی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف مقامی کاروبار کو وسعت ملے گی بلکہ نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور صوبے کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ البرٹا کی مقامی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
بین الصوبائی تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کی کوشش
یہ معاہدہ ان رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو مختلف صوبوں کے درمیان شراب کی فروخت کو مشکل اور مہنگا بناتی ہیں۔
ماضی میں ہر صوبے کے اپنے الگ قوانین اور لائسنسنگ کے نظام کی وجہ سے شراب تیار کرنے والے اداروں کو دوسرے صوبوں میں مصنوعات فروخت کرنے میں متعدد قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئے معاہدے کا مقصد ان پیچیدگیوں کو کم کرنا اور اندرونِ ملک تجارت کو آسان بنانا ہے۔
چند صوبوں نے پہلے ہی الگ معاہدے کر رکھے تھے
کینیڈا کے بعض صوبے اس سمت میں پہلے ہی پیش رفت کر چکے ہیں۔نیو برنزوک اور مانیٹوبا پہلے ہی ایسے معاہدے کر چکے ہیں جن کے تحت مخصوص اقسام کی شراب کی بین الصوبائی فروخت کی اجازت دی جا چکی ہے۔ نئے معاہدے کے بعد اس سہولت کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی امید ہے۔
تمام صوبوں اور یوکون کا گزشتہ سال عہد
گزشتہ سال تمام صوبوں اور یوکون نے ایک یادداشتِ مفاہمت (Memorandum of Understanding) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مئی 2026 تک براہِ راست صارفین کو شراب فروخت کرنے کے لیے صوبائی سرحدیں کھولنے کا عزم کیا گیا تھاموجودہ معاہدہ اسی وعدے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید رکاوٹیں بھی ختم کرنا ہوں گی
اگرچہ البرٹا کی پریمیئر نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تجارت میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق صرف شراب کی فروخت ہی نہیں بلکہ دیگر اشیا اور خدمات کی بین الصوبائی تجارت کو بھی آسان بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہییں تاکہ کینیڈا کی داخلی منڈی مضبوط ہو سکے۔
کیوبیک اور یوکون بھی جلد شامل ہونے کے خواہاں
کینیڈا کے پریمیئرز کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیوبیک اور یوکون بھی مستقبل قریب میں اس معاہدے میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب برٹش کولمبیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ فروری 2027 تک کمپنیوں کو براہِ راست صارفین کو شراب فروخت کرنے کی مکمل اجازت دے دے گا۔
امریکا کے نئے ٹیرف کے بعد معاہدے کی اہمیت بڑھ گئی
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا کی بیئر، وائن اور دیگر الکوحل مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی منڈی میں ممکنہ مشکلات کے پیش نظر کینیڈا کے اندر بین الصوبائی تجارت کو فروغ دینا نہایت اہم ہو گیا ہے تاکہ مقامی صنعتوں کو نئے خریدار مل سکیں اور امریکی مارکیٹ پر انحصار کم کیا جا سکے۔
معاہدے سے اندرونی تجارت کو فروغ ملنے کی امید
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تمام صوبے اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرتے ہیں تو کینیڈا کے شراب تیار کرنے والے ہزاروں کاروباروں کو ملک بھر میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
اس اقدام سے نہ صرف بین الصوبائی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی صنعت، روزگار، سرمایہ کاری اور صارفین کے لیے مصنوعات کے انتخاب میں بھی نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔