کینیڈا میں گاڑی چوری کی وارداتیں کیسے کم ہوئیں، پھر بھی 80 فیصد شہری غیر محفوظ کیوں؟

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران گاڑی چوری کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔ ایک نئے سروے کے مطابق تقریباً 80 فیصد کینیڈین شہریوں کا خیال ہے کہ ان کی گاڑیاں اب بھی چوروں کے نشانے پر آ سکتی ہیں کیونکہ موجودہ اینٹی تھیفٹ نظام کافی مضبوط نہیں۔

یہ سوال اب اہم ہو گیا ہے کہ جب گاڑی چوری کی وارداتیں کم ہو رہی ہیں تو حکومت نے آخر ایسے کون سے اقدامات کیے جن سے یہ تبدیلی آئی، اور پھر بھی شہری خود کو غیر محفوظ کیوں محسوس کر رہے ہیں؟

حکومت نے گاڑی چوری روکنے کے لیے کیا کیا؟

گاڑی چوری میں اضافے کے بعد کینیڈا کی وفاقی حکومت نے 2024 میں ایک قومی ایکشن پلان متعارف کرایا۔اس منصوبے کے تحت منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں، گاڑیوں کی چوری میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کی تجاویز دی گئیں

بندرگاہوں سے گاڑیوں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے شپنگ کنٹینرز کی جانچ بڑھائی گئی جبکہ پولیس، بارڈر سروسز اور دیگر اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کو بھی بہتر بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انہی اقدامات کے باعث ملک میں گاڑی چوری کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

کیا یہ حکمت عملی کامیاب رہی؟

ایکوئٹی ایسوسی ایشن کی فروری میں جاری رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران گاڑیوں کی چوری میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔

کیوبیک میں سب سے زیادہ 25 فیصد کمی دیکھی گئی، اونٹاریو میں 22 فیصد جبکہ مغربی کینیڈا میں 11 فیصد کمی سامنے آئی۔

اس کے برعکس اٹلانٹک کینیڈا میں صرف 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں میں حکمت عملی کے نتائج یکساں نہیں رہے۔

 تقریباً 47 ہزار گاڑیاں کیوں چوری ہوئیں؟

وارداتوں میں کمی کے باوجود مسئلہ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران ملک بھر میں تقریباً 47 ہزار گاڑیاں چوری ہوئیں جبکہ ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ گاڑیاں آج تک برآمد نہیں ہو سکیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ منظم جرائم پیشہ گروہ اب جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں اور روایتی حفاظتی نظام کو آسانی سے ناکارہ بنا دیتے ہیں۔

جدید چور اب ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں

ایکوئٹی ایسوسی ایشن کے نائب صدر برائے تحقیقاتی خدمات برائن گاسٹ کے مطابق آج کے گاڑی چور روایتی اوزار استعمال نہیں کرتے بلکہ کی فوب ریلے حملوں (Key Fob Relay Attacks)، الیکٹرانک ری پروگرامنگ اور دیگر جدید طریقوں سے چند لمحوں میں گاڑی کا سکیورٹی سسٹم توڑ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف گاڑی لاک کرنا اب کافی نہیں رہا بلکہ چوری ہونے سے پہلے ہی اسے روکنے کے لیے مزید مؤثر حفاظتی نظام ضروری ہیں۔

80 فیصد شہری اب بھی غیر محفوظ کیوں محسوس کرتے ہیں؟

اینگس ریڈ کے سروے کے مطابق تقریباً 80 فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ ان کی گاڑیاں اب بھی چوری ہو سکتی ہیں۔

اسی سروے میں 75 فیصد افراد نے کہا کہ نئی گاڑیوں میں جدید اینٹی تھیفٹ ٹیکنالوجی لازمی ہونی چاہیے جبکہ 60 فیصد نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام نئی گاڑیوں میں ایسے حفاظتی نظام کو قانوناً لازمی قرار دے۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ حکومتی اقدامات سے وارداتیں کم ہوئی ہیں، لیکن عوام کو ابھی بھی موجودہ حفاظتی نظام پر مکمل اعتماد حاصل نہیں۔

شہری خود کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے شہری اب اپنی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں گاڑیوں کو گیراج میں کھڑا کرنا، اموبلائزر نصب کرنا، جی پی ایس ٹریکر استعمال کرنا اور اضافی سکیورٹی ڈیوائسز لگانا تیزی سے عام ہو رہا ہے۔

برائن گاسٹ کے مطابق جتنی زیادہ حفاظتی رکاوٹیں ہوں گی، اتنا ہی چوروں کے لیے گاڑی چوری کرنا مشکل ہو جائے گا۔

چوری شدہ گاڑیاں کہاں جاتی ہیں؟

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں صرف 59 فیصد چوری شدہ گاڑیاں ہی برآمد ہو پاتی ہیں اونٹاریو اور کیوبیک میں تو تقریباً نصف گاڑیاں ہی واپس ملتی ہیں، جبکہ باقی گاڑیوں کو یا تو بیرون ملک اسمگل کر دیا جاتا ہے یا پھر غیر قانونی "چاپ شاپس” میں پرزوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

البرٹا میں اگرچہ چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی کی شرح 71 فیصد ہے، تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ یہ صوبہ اب بھی دوسرے علاقوں سے چوری کی گئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے ایک "فیڈر صوبہ” بنا ہوا ہے۔

اصل چیلنج اب کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کارروائیوں سے گاڑی چوری میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن منظم جرائم پیشہ گروہ مسلسل اپنے طریقے بدل رہے ہیں۔ اسی لیے اب صرف پولیس کارروائی کافی نہیں بلکہ نئی گاڑیوں میں جدید اینٹی تھیفٹ ٹیکنالوجی کو لازمی بنانا، بندرگاہوں کی نگرانی مزید سخت کرنا اور عوام کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنا ضروری ہوگا تاکہ گاڑی چوری کی وارداتوں میں مزید کمی لائی جا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں