اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی تو ان کا دل چاہتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے تاکہ وہ خود ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر سکیں اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں۔
مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہیں مظفرآباد، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے بے پناہ محبت ہے اور وہ آزاد کشمیر کو پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں ترقیاتی کام کیوں رکے؟
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز کا جال بچھایا گیا، مگر افسوس کی بات ہے کہ کوہالہ سے مظفرآباد تک آج بھی وہی سڑک موجود ہے جو کئی دہائیاں پہلے تعمیر ہوئی تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کوہالہ سے مظفرآباد تک جدید ہائی وے کیوں تعمیر نہیں کی گئی، حالانکہ اس کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے شروع کیے گئے منصوبے مکمل ہوتے تو آج آزاد کشمیر کی سفری سہولتیں بہت مختلف ہوتیں۔
موٹر وے منصوبے سے کیا تبدیلی آتی؟
سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے اور راجا فاروق حیدر آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے تو انہوں نے مانسہرہ سے مظفرآباد اور پھر مظفرآباد سے میرپور تک دریائے جہلم کے ساتھ ایک جدید موٹر وے تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔
انہوں نے اس منصوبے کو آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ (ن) کا ایک تاریخی تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے منفرد ترقیاتی منصوبوں میں شامل تھا۔
ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو سڑکوں کا جدید نیٹ ورک قائم ہوتا، اسپتال، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنتیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے اور آزاد کشمیر میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا۔
آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا گھر قرار دے دیا
نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے کبھی آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد ان کے لیے اہم ہیں، اسی طرح آزاد کشمیر بھی ان کے دل کے بہت قریب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، اسی لیے کشمیر سے ان کا جذباتی تعلق بھی ہے۔
مریم نواز آزاد کشمیر کے لیے کیا لے کر جائیں گی؟
جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے کہا ہے کہ جیسے کوئی مہمان کسی کے گھر جاتے وقت مٹھائی یا تحفہ لے کر جاتا ہے، اسی طرح وہ بھی آزاد کشمیر کے عوام کے لیے تحفے لے کر جائیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ چند روز میں مظفرآباد کے لیے 10 گرین الیکٹرک بسیں فراہم کی جائیں گی، جو شہر کی سڑکوں پر چلیں گی۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں 15 موبائل اسپتال بھی بھیجے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو صحت کی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔
صحت کی سہولتوں پر کیا کہا؟
نواز شریف نے کہا کہ انہیں افسوس ہوتا ہے جب وہ سنتے ہیں کہ کسی بیمار شخص کو آج بھی چارپائی پر اٹھا کر سڑک تک لایا جاتا ہے اور پھر اسلام آباد منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ بعض مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے اور اسی لیے وہ صحت کے شعبے میں خصوصی توجہ دینا چاہتے ہیں۔
اگر وزیراعظم نہ بن سکے تو کیا کریں گے؟
نواز شریف نے کہا کہ اگر وہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم نہ بھی بن سکے تو بھی وہ یہاں کی قیادت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہر تین ماہ بعد مظفرآباد، راولاکوٹ اور دیگر شہروں کا دورہ کریں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ انتخابی منشور پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اپنے ساتھ لائیں گے اور آزاد کشمیر کے ہر علاقے کا دورہ کریں گے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کی جا سکے۔
سابق حکومتوں پر تنقید
سابق وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے آزاد کشمیر سمیت ملک کی ترقی کے لیے کوئی مؤثر کام نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں صرف نعرے لگائے گئے، عوام کے جذبات کو بھڑکایا گیا اور ملک کا قیمتی وقت ضائع کیا گیا۔
ان کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آئی تو وہ ماضی کی تمام کمی کو پورا کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کریں گے۔
نواز شریف کی خواہش کیا ہے؟
اپنی تقریر کے اختتام پر نواز شریف نے کہا کہ ان کی دعا اور خواہش ہے کہ مظفرآباد ترقی اور خوشحالی میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے بھی آگے نکل جائے اور آزاد کشمیر کے عوام کو وہ تمام سہولتیں میسر ہوں جن کے وہ حق دار ہیں۔