امریکا اور ایران کی کشیدگی سے خام تیل 92 ڈالر فی بیرل سے کیوں تجاوز کر گیا، عالمی معیشت پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی مزید مہنگا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت میں ایک ڈالر یا 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 92.01 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان ہوگیا،نئے نظام سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

اسی دوران امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 82 سینٹ یا تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 85.16 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

گزشتہ روز بھی قیمتیں کیوں بلند رہیں؟

رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل دوسرے روز بھی بلند سطح پر رہیں۔ منگل کو برینٹ خام تیل 91.01 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 84.91 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا، جو گزشتہ تقریباً پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح تھی۔

ماہرین کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ سپلائی بحران کے خدشے کو پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کی کشیدگی کا تیل سے کیا تعلق ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے جنوبی اور مغربی ایران میں حملے کیے، جبکہ اس کے جواب میں ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

اگرچہ ان دعوؤں اور کارروائیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم صرف ان اطلاعات نے ہی عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے خام تیل کی خریداری بڑھا دی۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات بھی ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی یا اس بحری راستے پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

قیمتیں مزید کہاں تک جا سکتی ہیں؟

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خام تیل کی قیمتوں کا انحصار مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ہوگا۔

اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہونے کا امکان موجود ہے۔

دوسری جانب اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور کشیدگی میں کمی آئی تو قیمتوں میں استحکام بھی آ سکتا ہے۔

دنیا کی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ فضائی سفر، شپنگ اور پیداواری لاگت میں اضافے سے عالمی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتے ہیں، ان پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔

اگر عالمی منڈی میں خام تیل مسلسل مہنگا رہا تو درآمدی بل میں اضافہ، ایندھن کی مقامی قیمتوں پر دباؤ اور زرمبادلہ کے اخراجات بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

آگے کیا صورتحال رہ سکتی ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز عالمی منڈی کی سمت کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی فوجی اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔

اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات مزید بڑھے تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں، جبکہ کشیدگی میں کمی کی صورت میں عالمی توانائی منڈی کو کچھ استحکام مل سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں