اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی امریکا کی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اب اگر کسی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق کسی بھی املاک کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا مالی ازالہ ان ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا جو اس وقت امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام آئندہ ہونے والے نقصانات کے لیے ہوگا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس فیصلے کے تحت کون سے ایرانی اثاثے استعمال کیے جائیں گے اور کتنی رقم مختص کی جائے گی۔
ٹرمپ کا مؤقف
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔”
ان کے اس اعلان کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیجی پانیوں میں حالیہ عرصے کے دوران بحری نقل و حرکت، تیل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں کو کئی خطرات کا سامنا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی
ٹرمپ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں صورتحال انتہائی حساس ہے۔علاقے میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔ متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو درپیش خطرات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
ایرانی اثاثے
امریکا پہلے ہی مختلف پابندیوں کے تحت ایران کے کئی مالیاتی اثاثے منجمد کر چکا ہے۔ ان اثاثوں کی مالیت اربوں ڈالر تک بتائی جاتی ہے، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک یہ تفصیل جاری نہیں کی کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کتنی رقم استعمال کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق کسی دوسرے ملک کے منجمد اثاثوں کو نقصان کے ازالے کے لیے استعمال کرنا ایک پیچیدہ قانونی معاملہ ہے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت ریاستوں کے مالی اثاثوں کو مخصوص تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
ایران پر اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اس اعلان پر عملی اقدامات شروع کیے تو اس کے ایران کے ساتھ پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
ایران ممکنہ طور پر اس اقدام کو اپنے مالی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے سکتا ہے، جبکہ امریکا اسے خطے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے اور ذمہ داری کے تعین کے لیے ضروری قرار دے گا۔
یہ بھی پڑھیں :ایران، امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی کوششیں تیز، تہران نے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو مذاکرات سے مشروط کر دیا
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازع بڑھنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر قانونی بحث بھی شروع ہو سکتی ہے۔
قانونی پیچیدگیاں
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے منجمد اثاثوں کو دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا معاملہ آسان نہیں ہوگا۔اس حوالے سے کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا ایک ملک کو دوسرے ملک کے اثاثے استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو عالمی مالیاتی نظام پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں ممالک کے بیرون ملک موجود اثاثوں کے تحفظ سے متعلق نئی بحث کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
عالمی ردعمل
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا اس اعلان پر کب اور کس طریقہ کار کے تحت عمل کرے گا، تاہم اس بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ایران اس اقدام پر کیا ردعمل دیتا ہے اور دیگر ممالک اس معاملے کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی، بحری راستوں کی سیکیورٹی اور توانائی کی عالمی سپلائی آنے والے دنوں میں بھی اہم عالمی معاملات رہیں گے۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔