کینیڈا کی دفاعی کمپنی کو اربوں ڈالر کا معاہدہ ملنے کا امکان،اسٹیل پلانٹ میں ہزاروں نوکریوں کی امید

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی دفاعی گاڑیاں بنانے والی کمپنی روزہیل (Roshel) تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اب اس کے موجودہ پیداواری مراکز اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔ برامپٹن میں قائم یہ کمپنی اس وقت تقریباً 4 لاکھ مربع فٹ جگہ میں تحقیق، ترقی اور گاڑیوں کی تیاری کا کام کر رہی ہے، تاہم مستقبل کے بڑے آرڈرز پورے کرنے کے لیے اسے تقریباً 20 لاکھ مربع فٹ جگہ درکار ہے۔

صرف ایک دہائی پرانی یہ کمپنی اب یوکرین اور کئی نیٹو ممالک کے لیے ہلکی بکتر بند گاڑیوں (Light Utility Vehicles) کی اہم سپلائر بن چکی ہے۔ امریکا، جرمنی، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد ممالک روزہیل کی تیار کردہ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

اربوں ڈالر کا معاہدہ

روزہیل اس وقت کینیڈین حکومت کے ایک بڑے دفاعی منصوبے کے لیے دوڑ میں شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔اس معاہدے کے تحت کمپنی کو 1600 سے 2100 بکتر بند گاڑیاں اور 400 سے 500 ہلکے یوٹیلیٹی ٹریلرز تیار کرنا ہوں گے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ اس منصوبے کے لیے بولی کا عمل صرف کینیڈین کمپنیوں تک محدود کر دیا گیا ہے اور حکومت نے امیدوار کمپنیوں کی تعداد کم کرکے دو تک کر دی ہے۔

روزہیل کے چیف ایگزیکٹو رومن شیمونوف کے مطابق کمپنی اب بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور اگر معاہدہ حاصل ہوتا ہے تو وہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

ہزاروں نوکریوں کی امید

رومن شیمونوف کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں کئی آٹو موبائل کمپنیاں اپنی سرگرمیاں کم کر چکی ہیں، لیکن دفاعی صنعت ان خالی جگہوں کو دوبارہ روزگار کے مواقع میں تبدیل کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزہیل پہلے ہی سیکڑوں افراد کو ملازمت دے رہی ہے اور اگر حکومتی معاہدہ مل جاتا ہے تو کمپنی ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کو رواں سال کے اختتام تک مزید سیکڑوں ملازمین بھرتی کرنا ہوں گے اور پیداوار بڑھانے کے لیے فوری طور پر بڑی جگہ کی ضرورت ہوگی۔

اسٹیلانٹس پلانٹ پر نظریں

روزہیل کی نظر اب برامپٹن کے اس پلانٹ پر ہے جو اسٹیلانٹس (Stellantis) کے زیر استعمال تھا، لیکن 2023 کے بعد سے تقریباً غیر فعال ہے۔اس پلانٹ میں آخری گاڑی تیار ہونے کے بعد تقریباً 3 ہزار ملازمین میں سے زیادہ تر کو فارغ کر دیا گیا۔ یہاں جیپ کمپاس تیار کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن بعد میں پیداوار امریکا کے ریاست الینوائے کے پلانٹ منتقل کر دی گئی۔

روزہیل کا خیال ہے کہ یہ جگہ دفاعی گاڑیوں کی تیاری کے لیے موزوں ثابت ہو سکتی ہے اور فوری طور پر بڑے پیداواری منصوبے کو شروع کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ملازمین کا مطالبہ

برامپٹن کے اسٹیلانٹس ورکرز کی نمائندگی کرنے والی یونین یونائی فور 1285 کا کہنا ہے کہ کمپنی کو کارکنوں کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہوگا۔یونین کے صدر وٹو بیاتو نے کہا کہ وہ اسٹیلانٹس کو ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان کی ترجیح ملازمین کو دوبارہ کام پر واپس لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونین مذاکرات کے ذریعے برامپٹن کے کارکنوں کے لیے روزگار کے تحفظ کی کوشش کرے گی۔

میئر کی حمایت

برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے بھی روزہیل کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیلانٹس پلانٹ کو دوبارہ فعال کرنا اور مقامی لوگوں کے لیے اچھی تنخواہوں والی نوکریاں پیدا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈین حکومت کو اسٹیلانٹس سے ان وعدوں کا جواب طلب کرنا چاہیے جو کمپنی نے بھاری حکومتی سبسڈی حاصل کرتے وقت کیے تھے۔اسٹیلانٹس کو برامپٹن پلانٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے وفاقی حکومت سے 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی مالی معاونت بھی ملی تھی۔

دفاعی صنعت کا نیا مرکز؟

روزہیل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حاصل ہو جاتا ہے تو برامپٹن اور کینیڈا کے لیے دفاعی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔کمپنی نے پہلے ہی اونٹاریو کے شہر سو سَینٹ میری میں الگوما اسٹیل کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جہاں بکتر بند گاڑیوں کے لیے خصوصی اسٹیل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔شیمونوف کے مطابق اس اقدام سے کمپنی اہم خام مال کے لیے زیادہ خودمختار ہو جائے گی۔

فیصلے کا انتظار

کینیڈین حکومت کی جانب سے لائٹ یوٹیلیٹی وہیکل منصوبے کے فاتح کا اعلان آنے والے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔روزہیل کا کہنا ہے کہ اگر اسے معاہدہ ملتا ہے تو وہ 2026 سے گاڑیوں کی فراہمی شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

شیمونوف کے مطابق دنیا میں کوئی اور کمپنی اس رفتار سے پیداوار شروع کرنے کا وعدہ نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزہیل صرف ایک معاہدے کی منتظر نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے نئی جگہوں اور انفراسٹرکچر کی تلاش بھی شروع کر چکی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں