اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا نے آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر تقریباً 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد مصنوعات پر نئے درآمدی محصولات نافذ کر دیے ہیں۔ نئے ٹیرف کی شرح 10 اور 12.5 فیصد مقرر کی گئی ہے، جن کا اطلاق مختلف ممالک سے آنے والی مخصوص اشیا پر ہوگا۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ان ممالک کو عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔
پرانے ٹیرف کی جگہ
امریکی حکام کے مطابق یہ نئے محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے، جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد محدود مدت کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور اب اس کی مدت ختم ہو رہی ہے۔
گزشتہ برس سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قومی ہنگامی اختیارات کے تحت مختلف ممالک پر 10 سے 50 فیصد تک باہمی ٹیرف عائد کیے تھے۔ ان اقدامات کا مقصد امریکا کے بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنا بتایا گیا تھا۔
تاہم رواں برس فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے ان ٹیرف کو مؤثر قرار نہیں دیا، جس کے بعد امریکی انتظامیہ نے نئے محصولات کے لیے 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کا سہارا لیا ہے۔
پاکستان کینیڈابھی شامل
امریکی فیصلے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد ہوگا۔اس فہرست میں بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت کئی ممالک شامل ہیں۔کچھ دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد ٹیرف بھی لاگو کیا جائے گا۔
کن اشیا کو چھوٹ؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم کئی اہم شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
چھوٹ حاصل کرنے والی اشیا میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس اور وہ مصنوعات شامل ہیں جو پہلے ہی قومی سلامتی کے تحت سیکشن 232 کے محصولات کا سامنا کر رہی ہیں۔
ان میں گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی کئی مصنوعات بھی نئے ٹیرف سے محفوظ رہیں گی۔
امریکا کا مؤقف
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد کے خلاف قوانین پر عمل کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کی روک تھام کی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک کے ساتھ امریکا کے پہلے سے تجارتی معاہدے موجود ہیں، ان پر نئے ٹیرف مقررہ حد سے زیادہ لاگو نہیں ہوں گے۔
عالمی ردعمل
امریکی اقدام پر یورپی یونین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف بلاجواز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپلائی مینجمنٹ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، کینیڈین وزیر اعظم
انہوں نے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے جبری مشقت سے متعلق قوانین مضبوط ہیں اور وہاں کارکنوں کو بہتر حقوق، تنخواہیں اور سہولیات حاصل ہیں۔
کایا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین واشنگٹن سے اس معاملے پر وضاحت طلب کرے گی کیونکہ نئے ٹیرف کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
اتحادی ممالک ناراض
آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کے ذریعے اس معاملے کے حل کی کوشش کریں گے۔
کینیڈا، جس پر چند روز قبل تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، نے محتاط ردعمل دیا ہے۔
کینیڈین وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ شہریوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
امریکا میں بھی مخالفت
امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے بھی نئے ٹیرف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ محصولات کے نتیجے میں اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر دباؤ بڑھے گا اور امریکی معیشت کی عالمی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
قانونی جنگ کا امکان
تجارتی قانون کے ماہرین کے مطابق نئے ٹیرف کی شرح اگرچہ بڑی حد تک ختم ہونے والے عارضی محصولات جیسی ہے، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا گیا ہے، اس لیے انہیں عدالت میں چیلنج کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ فیصلہ عالمی تجارت، سپلائی چینز اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں کئی ممالک کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔