اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک میں اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور چند بڑی سپر مارکیٹ چینز کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے ایک نئی قومی غذائی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت آئندہ دس برسوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک بھر میں چالیس تک مقامی فوڈ ہبز قائم کیے جائیں گے تاکہ کسانوں کو براہِ راست منڈیوں تک رسائی ملے، چھوٹے کاروبار مضبوط ہوں اور خوراک کی فراہمی کا نظام زیادہ مستحکم اور متوازن بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں
کینیڈا میں مہنگائی ریلیف پروگرام کے تحت لاکھوں شہریوں کو ادائیگیوں کا آغاز
حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مقامی زرعی شعبے کو سہارا دینا، سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور صارفین کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے جس کے نتیجے میں طویل مدت میں خوراک کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پانچ بڑی کمپنیوں کا غلبہ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں تقریباً 75 فیصد اشیائے خور و نوش کی فروخت صرف پانچ بڑی ریٹیل کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے مارکیٹ میں مقابلے کو محدود کر دیا ہے جبکہ کسانوں کی سودے بازی کی طاقت بھی کمزور پڑ گئی ہے۔
زرعی تنظیموں کے مطابق بڑی سپر مارکیٹیں اپنی شرائط پر قیمتیں مقرر کرتی ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان اکثر اپنی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں کر پاتے۔ حکومت اسی عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے متبادل مارکیٹنگ نظام متعارف کرا رہی ہے۔
لہسن کی فصل ضائع کرنا پڑی
پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والی کسان روز ویانے نے بتایا کہ تقریباً بیس برس قبل ان کے خاندان کو لہسن کی پوری فصل فروخت کرنے کے بجائے ضائع کرنا پڑی کیونکہ بڑی سپر مارکیٹ چینز پیداواری لاگت سے کہیں کم قیمت دینے پر اصرار کر رہی تھیں۔
ان کے مطابق ایک پاؤنڈ لہسن کی پیداوار پر تقریباً سات ڈالر لاگت آتی تھی جبکہ خریدار صرف پچاس سینٹ فی پاؤنڈ ادا کرنے کو تیار تھے۔ ایسے حالات میں نقصان اٹھا کر فصل فروخت کرنے کے بجائے اسے تلف کرنا ہی بہتر سمجھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کسان مکمل طور پر بڑی کمپنیوں کے رحم و کرم پر تھے اور بہتر قیمت حاصل کرنے کا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں تھا۔
کسانوں کے لیے طاقت کا عدم توازن
نیشنل فارمرز یونین کی صدر جین پفننگ کے مطابق یہ مسئلہ صرف چند کسانوں تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں ہزاروں کسان روزانہ اسی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
مہنگائی کا نیا جھٹکا،کینیڈا میں گروسری مزید مہنگی ہونے کا خدشہ
ان کا کہنا تھا کہ جب چند بڑی کمپنیاں پوری مارکیٹ پر حاوی ہوں تو کسانوں کے لیے اپنی پیداوار مناسب قیمت پر فروخت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ موجودہ نظام میں قیمتوں کا تعین زیادہ تر بڑی ریٹیل کمپنیاں کرتی ہیں جبکہ کسانوں کے پاس مذاکرات کی طاقت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
فوڈ ہبز کیسے کام کریں گے؟
حکومت کے منصوبے کے مطابق فوڈ ہبز ایسے مراکز ہوں گے جہاں مقامی کسان اپنی پیداوار جمع کرائیں گے۔ وہاں سے مختلف ریستورانوں، چھوٹے گروسری اسٹورز، کمیونٹی اداروں اور دیگر خریداروں کی ضرورت کے مطابق اشیائے خور و نوش فراہم کی جائیں گی۔
پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ میں پہلے سے قائم ایک فوڈ ہب کی منتظم این ہگز کے مطابق اس نظام نے چھوٹے کسانوں کو بڑی سپلائی چین کا حصہ بنے بغیر مقامی مارکیٹ تک رسائی فراہم کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کسان ترقی کرتے ہیں تو فوڈ ہب بھی مضبوط ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
چھوٹے دکاندار بھی مشکلات کا شکار
پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ میں ایک جنرل اسٹور چلانے والے کرونل پٹیل نے بتایا کہ اگرچہ تازہ پھل اور سبزیاں مقامی فوڈ ہب سے حاصل ہو جاتی ہیں، لیکن خشک اشیائے خور و نوش اب بھی انہی بڑی تھوک کمپنیوں سے خریدنی پڑتی ہیں جن کا تعلق بڑی ریٹیل چینز سے ہے۔
ان کے مطابق بہتر نرخ حاصل کرنے کے لیے بڑی مقدار میں خریداری ضروری ہوتی ہے، مگر چھوٹے دکاندار اتنی فروخت نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے بعض اوقات اشیا کی میعاد ختم ہو جاتی ہے اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کی محتاط رائے
خوراک کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس منصوبے کو مقامی زرعی نظام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف فوڈ ہبز کے قیام سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ان کے مطابق عالمی سپلائی چین، موسمیاتی تبدیلی، درآمدی لاگت اور دیگر بین الاقوامی عوامل بھی خوراک کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے مقامی سطح پر مقابلہ بڑھنے کے باوجود فوری ریلیف محدود ہو سکتا ہے۔
حکومت کا مؤقف
کینیڈا کے وزیر زراعت ہیتھ میکڈونلڈ نے کہا کہ مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے سے سپلائی چین زیادہ مستحکم ہوگی، نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور صارفین کے پاس خریداری کے زیادہ متبادل موجود ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب مقامی مصنوعات براہِ راست مارکیٹ تک پہنچیں گی اور مقابلہ بڑھے گا تو اس کے مثبت اثرات اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
مقامی کاروباروں کی مضبوطی پر زور
روز ویانے اور ان کی بیٹی ٹریشا ویانے آج بھی شارلٹ ٹاؤن میں ایک مقامی کسان مارکیٹ چلاتی ہیں جہاں صرف مقامی پیداوار فروخت کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں ;
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ،کینیڈا میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا امکان
ان کا کہنا ہے کہ ان کی اصل کامیابی صرف منافع میں نہیں بلکہ مقامی کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانے میں ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مقامی دکانوں اور کسانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف زرعی شعبہ مستحکم ہوگا بلکہ صارفین کو بھی زیادہ متنوع، معیاری اور بہتر انتخاب میسر آئے گا۔