اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے صوبے البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی درخواست کو بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
الیکشنز البرٹا نے اعلان کیا ہے کہ پٹیشن مطلوبہ تعداد سے زیادہ تصدیق شدہ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم اس کے باوجود فوری طور پر ریفرنڈم نہیں کرایا جائے گا کیونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
یہ بھی بڑھیں :
کینیڈا ،البرٹا کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم پر عدالتی فیصلہ چیلنج
الیکشنز البرٹا کے مطابق پٹیشن پر مجموعی طور پر 2 لاکھ 86 ہزار 593 دستخط جمع کرائے گئے، جن میں سے تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار دستخطوں کی تصدیق کی گئی۔ کامیاب پٹیشن کے لیے 1 لاکھ 77 ہزار 732 تصدیق شدہ دستخط درکار تھے، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہیں۔
تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ دستخطوں کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے کے باوجود البرٹا کی آزادی پر فوری ریفرنڈم نہیں ہوگا۔
معاملہ عدالت میں زیر التوا
البرٹا کی علیحدگی سے متعلق درخواست کو بعض فرسٹ نیشنز کمیونٹیز نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صوبے کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی کوشش آئین سے متصادم ہے۔
عدالت میں جاری اس مقدمے کے فیصلے کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ آیا البرٹا کی علیحدگی کے سوال پر عوامی ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
حکومت کا مؤقف
البرٹا حکومت نے کہا ہے کہ 19 اکتوبر کو ہونے والے پہلے سے طے شدہ ریفرنڈم میں وہی سوال شامل ہوگا جس کا پہلے اعلان کیا جا چکا ہے اور موجودہ پٹیشن اس بیلٹ میں فوری طور پر شامل نہیں کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کا حق دیا جائے گا تاہم البرٹا کی آزادی سے متعلق کسی بھی ریفرنڈم کا مستقبل عدالتی کارروائی اور اس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔
مزید پڑھیں :
البرٹا میں علیحدگی ریفرنڈم کی تشہیری مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ، اپوزیشن کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید
مطلوبہ دستخط حاصل ہونا علیحدگی کی تحریک کے لیے ایک اہم کامیابی ضرور ہے، لیکن آئینی اور قانونی رکاوٹیں دور ہونے تک اس معاملے پر کسی حتمی پیش رفت کا امکان نہیں۔