کینیڈا ،البرٹا کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم پر عدالتی فیصلہ چیلنج

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک نے آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی درخواست مسترد کیے جانے کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی ہے۔

علیحدگی پسند گروپ ’’اسٹے فری البرٹا‘‘ کے رہنما مچ سلویسٹر نے عدالتِ اپیل میں درخواست جمع کرا دی ہے جس میں عدالتِ عالیہ کے پورے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اپیل اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی جس میں عدالتِ کنگز بینچ کی جج شائنا لیونارڈ نے البرٹا کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم کی درخواست کی منظوری منسوخ کر دی تھی۔
جج نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ صوبائی چیف الیکٹورل افسر گورڈن میک کلور نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اس درخواست کو منظور کیا اور مقامی قدیم اقوام کے حقوق کو نظر انداز کیا۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ البرٹا حکومت نے بطور ’’تاجِ حکومت‘‘ مقامی قبائل سے مشاورت کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس مقدمے میں اتھاباسکا چیپیویان فرسٹ نیشن، بلڈ ٹرائب، پیکانی نیشن اور سکسیکا فرسٹ نیشن نے درخواست گزار کے طور پر حصہ لیا تھا۔علیحدگی پسند تنظیم کے مطابق ان کی درخواست پر 3 لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کیے تھے، تاہم عدالتی فیصلے کے بعد اس درخواست کی آئینی حیثیت غیر یقینی ہو گئی ہے۔
مچ سلویسٹر کے وکیل جیفری راتھ نے عدالت کے فیصلے کو ’’سیاسی فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل اسے خالص عدالتی فیصلہ نہیں سمجھتے۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جج نے یہ قرار دے کر قانونی غلطی کی کہ چیف الیکٹورل افسر کی جانب سے درخواست کی منظوری غیر معقول تھی اور اس کے نتیجے میں حکومت پر مقامی اقوام سے مشاورت لازم ہو گئی تھی۔درخواست گزاروں نے اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ وکیل کے مطابق اگلے مرحلے میں عدالت سے حکمِ امتناع مانگا جائے گا تاکہ الیکشنز البرٹا درخواست پر جمع کیے گئے دستخطوں کی جانچ اور تصدیق کا عمل جاری رکھ سکے۔
دوسری جانب البرٹا کی وزیراعظم ڈینیئل اسمتھ نے بھی عدالتی فیصلے کو ’’غیر جمہوری‘‘ اور ’’قانونی طور پر غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات پر ریفرنڈم لانے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور موجودہ فیصلہ شہری اقدام کے قانون کو کمزور کرتا ہے۔ادھر مقامی قبائلی قیادت نے حکومت کو ایک تفصیلی دستاویز بھی جمع کرا دی ہے جس میں تاریخی معاہدوں، خودمختاری کے حق اور شکار و ماہی گیری کے روایتی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے البرٹا کی ممکنہ علیحدگی کی مخالفت کی گئی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں