اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جاری امریکی فوجی حملے ایک روز کے لیے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ خطے میں مزید بڑے پیمانے پر جنگ میں الجھنے کے بجائے سفارتی کوششوں کو ایک موقع دیا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور تنازع کا سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے ایران کے خلاف طے شدہ فضائی کارروائیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے تاہم تمام فوجی یونٹس کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت برقرار رکھی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔
سفارت کاری کو ترجیح دینے کا فیصلہ
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک جنگ بندی یا مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ اگر فوجی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے محدود مدت کے لیے حملے روک کر سفارتی ذرائع کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس دوران مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطوں میں مصروف رہے گی تاکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوئی قابل عمل راہ نکالی جا سکے۔
امریکی فوج کو الرٹ رہنے کی ہدایت
رپورٹس کے مطابق حملے عارضی طور پر روکنے کے باوجود امریکی فوج کی آپریشنل تیاریوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر قسم کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں یا ایران کی جانب سے کسی نئی کارروائی کا خدشہ پیدا ہوا تو فوجی آپریشن دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
امریکہ نے حملہ کیا تو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ،ایرانی فوج
دفاعی ذرائع کے مطابق امریکی بحریہ، فضائیہ اور خطے میں تعینات دیگر فوجی دستے بدستور ہائی الرٹ پر ہیں اور انہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اگرچہ ایک روز کے لیے حملے روکنے کا فیصلہ وقتی نوعیت کا ہے، تاہم اسے کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم سفارتی اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دوران دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ یا براہ راست مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو مستقبل میں مزید فوجی تصادم سے بچنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈی پر بھی گہری نظر
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ حملے عارضی طور پر روکنے کے فیصلے سے عالمی منڈی کو کچھ حد تک اطمینان مل سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ، باضابطہ تفصیلات کا انتظار
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے روکنے کا فیصلہ سفارتی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے کیا گیا ہےتاہم وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس فیصلے کی مکمل تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیں :
ایران پر امریکی حملوں کے اثرات، عالمی منڈی میں خام تیل 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ وقفہ صرف ایک دن تک محدود رہے گا یا اگر سفارتی پیش رفت ہوتی ہے تو حملوں کی معطلی میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
آئندہ صورتحال پر دنیا کی نظریں
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کا امکان بھی موجود ہے۔
اسی وجہ سے عالمی برادری، علاقائی ممالک اور مالیاتی منڈیاں آئندہ چند دنوں میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں اور امریکا کے آئندہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔