اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے سسکیچیوان کے چھوٹے سے قصبے مورس (Morse) میں واقع رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) کا پولیس اسٹیشن خوفناک آتشزدگی کے باعث مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ مقامی فائر بریگیڈ کی بھرپور کوششوں کے باوجود عمارت کو بچایا نہ جا سکا، جبکہ آگ بجھانے کے دوران ایک اہم فائر ہائیڈرنٹ کے ناکام ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
شہر میں صدمہ
اتوار کی شام لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پولیس اسٹیشن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی شہری بے بسی سے عمارت کو جلتے ہوئے دیکھتے رہے جبکہ فائر فائٹرز محدود وسائل کے باعث مشکلات کا شکار رہے۔
قصبے کے میئر راکی پینر نے کہا کہ پوری کمیونٹی اس واقعے پر شدید صدمے میں ہے اور یہ شہر کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
ہائیڈرنٹ نے جواب دے دیا
آگ بجھانے کے دوران ایک فائر ہائیڈرنٹ اچانک ناکارہ ہو گیا، جس کے بعد فائر بریگیڈ کو پانی کی فراہمی کے لیے قریبی کسانوں اور ہٹرائٹ کمیونٹیز سے مدد لینا پڑی۔
میئر کے مطابق شہر کے دو دیگر ہائیڈرنٹس پہلے ہی مرمت کے منتظر تھے، جبکہ خراب ہونے والا ہائیڈرنٹ چند ماہ قبل کیے گئے معائنے میں مکمل طور پر درست پایا گیا تھا۔ اب اسے بھی فوری مرمت کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
رہائشیوں کی تشویش
مورس کی آبادی تقریباً 210 افراد پر مشتمل ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بھی کسی ہنگامی صورتحال میں فائر ہائیڈرنٹس نے کام نہ کیا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ میں امریکی فوج کا بڑا نقصان، ہلاک اور زخمی اہلکاروں کی تعداد میں اچانک اضافہ،نئے اعدادو شمار آگئے
رہائشی لائل پیٹینوڈ نے کہا کہ شہر میں پانی کے نظام پر پہلے بھی کام کیا گیا تھا، لیکن اب ضروری ہے کہ آگ بجھانے کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
پولیس اسٹیشن تباہ
آر سی ایم پی کے مطابق آگ لگنے کے وقت پولیس اسٹیشن میں کوئی اہلکار موجود نہیں تھا، اس لیے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آتشزدگی کے بعد پولیس اہلکار عمارت کے ملبے سے ضروری سرکاری ریکارڈ اور فائلیں محفوظ مقام پر منتقل کرتے رہے تاکہ اہم دستاویزات کو زیادہ سے زیادہ بچایا جا سکے۔
پولیس کا مؤقف
آر سی ایم پی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگرچہ پولیس اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، تاہم علاقے میں پولیس خدمات متاثر نہیں ہوں گی۔
حکام کے مطابق ایسے غیر معمولی حالات کے لیے پہلے سے متبادل انتظامات موجود ہیں اور قریبی آر سی ایم پی مراکز کے ذریعے شہریوں کو سیکیورٹی اور پولیسنگ کی سہولت فراہم کی جاتی رہے گی۔
دوبارہ تعمیر کی امید
قصبے کے میئر نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ آر سی ایم پی جلد از جلد مورس میں نیا پولیس اسٹیشن تعمیر کرے، کیونکہ اس کی موجودگی دیہی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
مقامی شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ اگر پولیس اسٹیشن دوبارہ تعمیر نہ کیا گیا تو دیہی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کم ہو سکتی ہے، جس سے سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوں گے۔
تحقیقات جاری
سسکیچیوان پبلک سیفٹی ایجنسی کے فائر انویسٹی گیٹرز نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
آر سی ایم پی کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق آگ مشکوک معلوم نہیں ہوتی، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
کمیونٹی کا تعاون
واقعے کے دوران قریبی کسانوں اور ہٹرائٹ کمیونٹیز نے پانی اور دیگر وسائل فراہم کر کے امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ میئر راکی پینر نے اس تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں کمیونٹی کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب فوری ترجیح آگ لگنے کی وجوہات معلوم کرنا، خراب فائر ہائیڈرنٹس کی مرمت اور پولیس خدمات کو معمول کے مطابق جاری رکھنا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ہنگامی واقعے سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔