البرٹا میں بڑا فیصلہ، اب ڈاکٹر کے بغیر بھی ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین ممکن

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں صحت کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی گئی ہے، جس کے تحت شہری اب ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر بھی اپنی جیب سے ادائیگی کر کے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے جیسے تشخیصی ٹیسٹ کرا سکیں گے۔ نئی پالیسی کا اطلاق جمعہ سے ہوگا، تاہم اس فیصلے نے طبی ماہرین، اپوزیشن اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

نئی سہولت کیا ہے؟

البرٹا حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت بالغ افراد جبکہ 18 سال سے کم عمر بچے والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت سے براہِ راست نجی تشخیصی مراکز سے رجوع کر سکیں گے۔

مریضوں کو پہلے اپنی جیب سے یا نجی انشورنس کے ذریعے ٹیسٹ کی فیس ادا کرنا ہوگی، جس کے بعد نتائج انہیں براہ راست فراہم کیے جائیں گے اور ان کا ریکارڈ صوبے کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ سسٹم میں بھی شامل کر دیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف

البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ بیماریوں کی بروقت تشخیص سے بہتر علاج ممکن ہوتا ہے اور شہریوں کو جلد اور درست معلومات ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نیا نظام سرکاری صحت کے نظام کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرے گا۔ ان کے مطابق معمول کے مطابق میموگرافی اور پروسٹیٹ کینسر کی اسکریننگ پہلے کی طرح عوامی فنڈنگ کے تحت جاری رہے گی۔

کینسر کے مریضوں کو ریلیف

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی مریض کے نجی طور پر کرائے گئے ٹیسٹ کے نتیجے میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے تو وہ اپنی ادا کی گئی رقم واپس حاصل کرنے کا اہل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں صحت نظام کی ازسرِ نو تشکیل کا آخری مرحلہ سامنے آگیا،شہریوں کو احتیاطی معائنے کے لیے خود رجوع کرنے کی اجازت دینے کی تجویز

مریض کو تشخیص کے ایک سال کے اندر ریفنڈ کی درخواست دینا ہوگی، جبکہ واپس کی جانے والی رقم کا تعین سرکاری شرحوں کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر کینسر کا شبہ ہو تو مریض کو فوری طور پر کینسر کیئر البرٹا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

قانونی منظوری

یہ تبدیلی ہیلتھ اسٹیچیوٹس امینڈمنٹ ایکٹ 2026 (بل 29) کے تحت ممکن ہوئی، جسے رواں سال مئی میں شاہی منظوری مل گئی تھی۔حکومت کا کہنا ہے کہ نجی سہولت متعارف کرانے کے باوجود عوامی صحت کے نظام میں تشخیصی ٹیسٹوں کی دستیابی متاثر نہیں ہوگی۔

نجی مراکز پر شرائط

صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ پریونٹیو ہیلتھ سروسز جسٹن رائٹ کے مطابق اس پروگرام میں شامل نجی مراکز اس بات کے پابند ہوں گے کہ ڈاکٹر کی جانب سے ریفر کیے گئے سرکاری مریضوں کی سہولت پہلے جیسی برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ نجی ادائیگی والے اضافی ٹیسٹ صرف اس وقت کیے جائیں گے جب عوامی نظام کے مریضوں کی خدمات متاثر نہ ہوں۔

نجی مراکز میں ماہر صحت پہلے مریض کا جائزہ لیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مطلوبہ ٹیسٹ واقعی ضروری ہے اور مریض کو اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جائے۔

اپوزیشن کی تنقید

البرٹا کی اپوزیشن جماعت این ڈی پی نے حکومت کے فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔این ڈی پی کے صحت امور کے ناقد شریف حاجی نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ تو انتظار کا وقت کم ہوگا اور نہ ہی صحت کے نظام کے بنیادی مسائل حل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے دو سطحی صحت کا نظام وجود میں آئے گا، جہاں مالی استطاعت رکھنے والے افراد جلد تشخیص کرا سکیں گے جبکہ عام شہریوں کو پہلے کی طرح انتظار کرنا پڑے گا۔

ماہرین کی رائے

کینیڈا ڈائگناسٹک سینٹرز کے صدر اور چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رابرٹ ڈیوس نے کہا کہ نجی مراکز کو اپنی استعداد بڑھانا ہوگی تاکہ خود رجوع کرنے والے مریضوں کا درست طبی جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ نجی مراکز پہلے بھی خواتین کو ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر سرکاری فنڈنگ کے تحت میموگرافی کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں، اس لیے نئے نظام کو نافذ کرنا ممکن ہے۔

کتنے ٹیسٹ بڑھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر رابرٹ ڈیوس کے مطابق نئی پالیسی کے بعد نجی شعبے میں کیے جانے والے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد چار گنا تک بڑھ سکتی ہے اور سالانہ تقریباً 50 سے 60 ہزار ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے تاہم واضح کیا کہ یہ تعداد صوبے میں ہر سال ہونے والے تقریباً 70 لاکھ تشخیصی ٹیسٹوں کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے، اس لیے مجموعی صحت کے نظام پر اس کا فوری دباؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں