اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی توانائی مارکیٹ پر نظر آ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں عالمی سطح پر آنے والی اس بڑی کمی کے باوجود صارفین کو محدود ریلیف ملا ہے، جہاں نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد پیٹرول صرف ایک روپے فی لیٹر سستا کیا گیا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا گیا۔
عالمی منڈی میں بڑی گراوٹ
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگی کارروائیوں میں عارضی وقفے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں 11.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 85.87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً 7 فیصد کمی ہوئی اور یہ 82.61 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔رپورٹس کے مطابق رواں سال 8 اپریل کے بعد ایک روز میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ سب سے بڑی کمی ہے۔
کشیدگی کم ہونے کا اثر
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں عارضی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایرانی حکومت کی درخواست پر ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ بندی پر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پیٹرول کی قیمت میں اصل خرچ کتنا؟ ایک لیٹر پر 125 روپے سے زائد ٹیکس، لیوی اور مارجنز وصول
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے تھے، لیکن جنگی سرگرمیوں میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے کچھ اطمینان کا اظہار کیا۔
پاکستان میں نئی قیمتوں کا اعلان
دوسری جانب پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق 28 جولائی سے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے سے کم ہو کر 334 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
ڈیزل صارفین پر مزید بوجھ
پیٹرول کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 386 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے۔
عوامی توقعات اور حقیقت
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پاکستانی شہریوں کو امید تھی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا ریلیف دیا جائے گا۔
تاہم حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے فیصلے نے عوامی توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف عالمی خام تیل کی قیمتوں پر منحصر نہیں ہوتیں بلکہ ان میں پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی اخراجات، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔
قیمتوں پر آئندہ نظر
ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید کمی آتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم رہتی ہیں تو آنے والے دنوں میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑی کمی کے باوجود پاکستانی صارفین کو صرف محدود ریلیف ملا ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور عام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثرات کا خدشہ برقرار ہے۔