بحری ناکہ بندی کی کوشش پر سخت ردعمل ہوگا،ایران کا امریکا کو انتباہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی کوشش کی تو اسے خطے میں جاری کشیدگی بڑھانے والا اقدام سمجھا جائے گا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے کسی بھی دھمکی یا جارحانہ کارروائی کا جواب دیا جائے گا اور ایران اپنی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا سخت مؤقف

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق القدس فورس ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا دباؤ کی پالیسی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف مناسب اور فیصلہ کن ردعمل دینے کا حق رکھتا ہے۔ایرانی فوجی کمان کے مطابق بحری راستوں کو محدود کرنے یا ناکہ بندی کی کسی بھی کوشش کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔

بحری ناکہ بندی پر ردعمل

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی یا اس نوعیت کا کوئی قدم اٹھایا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا کہ خطے میں کسی بھی ملک کی جانب سے طاقت کے استعمال یا غیر قانونی اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں سے متعلق معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گی۔

کشیدگی میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں سب سے اہم معاملات میں خطے میں فوجی موجودگی، بحری راستوں کی نگرانی اور سکیورٹی پالیسی شامل ہیں۔ایران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی فوجی دباؤ یا حملے کی صورت میں وہ اپنے دفاع کے لیے بھرپور جواب دے گا۔

امریکی اقدامات پر نظر

ایرانی فوجی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں اور بحری موجودگی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کے کسی بھی ایسے اقدام کو جو اس کی خودمختاری یا علاقائی سلامتی کے خلاف ہو گا، برداشت نہیں کیا جائے گا۔ایرانی حکام کے مطابق ملک اپنی سرحدوں اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

خطے میں خدشات

مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔

بحری راستوں سے متعلق کسی بھی تنازع کے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ میں امریکی فوج کا بڑا نقصان، ہلاک اور زخمی اہلکاروں کی تعداد میں اچانک اضافہ،نئے اعدادو شمار آگئے

خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایران کا پیغام

ایرانی مشترکہ فوجی کمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ملک کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا یا کوئی اور قوت ایران کے خلاف جارحانہ قدم اٹھاتی ہے تو اس کا جواب دینے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

تاہم عالمی برادری کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں