اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ (WestJet) کو بڑے لیبر بحران کا سامنا ہے، جہاں کمپنی کی تقریباً 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندہ یونین نے 72 گھنٹے کے اسٹرائیک نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس کے جواب میں ویسٹ جیٹ انتظامیہ نے بھی ملازمین کو 72 گھنٹے کا لاک آؤٹ نوٹس جاری کر دیا ہے، جس سے آئندہ چند روز میں ہزاروں مسافروں کی سفری منصوبہ بندی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یونین اور کمپنی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اگر مقررہ مدت کے اندر معاہدہ نہ ہو سکا تو ملک بھر میں متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو سکتی ہیں۔
ہڑتال کب شروع ہو سکتی ہے؟
کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے 72 گھنٹے کا اسٹرائیک نوٹس دے دیا ہے۔
یہ نوٹس اتوار کو رات 12 بج کر ایک منٹ (ماؤنٹین ٹائم) پر ختم ہوگا، جس کے بعد اگر معاہدہ نہ ہوا تو ملازمین ہڑتال شروع کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی یونین کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کیا تمام پروازیں منسوخ ہوں گی؟
ویسٹ جیٹ کے مطابق فی الحال اسٹرائیک اور لاک آؤٹ نوٹس کے باعث کمپنی کی موجودہ پروازیں فوری طور پر متاثر نہیں ہوں گی۔
تاہم اگر مذاکرات ناکام رہے تو جمعہ سے بعض پروازوں کو مرحلہ وار منسوخ کیا جا سکتا ہے تاکہ ہڑتال کی صورت میں آپریشن کو منظم انداز میں بند کیا جا سکے۔
کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جن مسافروں کی پروازیں متاثر ہوں گی، انہیں پیشگی اطلاع دی جائے گی۔
کن مسافروں پر اثر نہیں پڑے گا؟
ویسٹ جیٹ کے مطابق ویسٹ جیٹ اینکور (WestJet Encore) کی علاقائی پروازیں اور پارٹنر ایئرلائنز، جیسے ڈیلٹا ایئر لائنز (Delta Air Lines) کے ذریعے چلنے والی کوڈ شیئر پروازیں اس ممکنہ ہڑتال سے متاثر نہیں ہوں گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
مسافروں کے لیے کیا سہولت دی گئی؟
ممکنہ ہڑتال کے پیش نظر ویسٹ جیٹ نے 30 جولائی سے 4 اگست کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو خصوصی سہولت فراہم کی ہے۔
مسافر اس مدت کے دوران اپنی بکنگ ایک مرتبہ بغیر کسی اضافی فیس کے تبدیل یا منسوخ کر سکتے ہیں۔
اگر کسی پرواز کی منسوخی یا تاخیر ہوتی ہے تو کمپنی متاثرہ مسافروں کو متبادل پرواز فراہم کرے گی یا قابل اطلاق صورت میں ریفنڈ دے گی۔
کن مسافروں کو نقد رقم واپس ملے گی؟
کمپنی کے مطابق صرف مخصوص ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو ادائیگی اصل طریقہ کار کے مطابق واپس کی جائے گی۔
PremiumFlex اور BusinessFlex ٹکٹ رکھنے والے، یا کینیڈا اور ایشیا کے درمیان پریمیم اور بزنس کلاس میں سفر کرنے والے مسافر نقد ریفنڈ حاصل کر سکیں گے۔دیگر بیشتر مسافروں کو رقم کے بجائے ٹریول کریڈٹ دیا جائے گا، جسے آئندہ سفر کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
ہڑتال کی نوبت کیوں آئی؟
یونین اور کمپنی کے درمیان سب سے بڑا اختلاف فلائٹ اٹینڈنٹس کو زمین پر انجام دی جانے والی ڈیوٹی کے معاوضے پر ہے۔
یونین کا مؤقف ہے کہ بورڈنگ، تاخیر، مسافروں کی مدد اور دیگر زمینی ذمہ داریوں کا مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں :کیوبا کے لیے ویسٹ جیٹ اور سن وِنگ کی تمام پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل
دوسری جانب ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ اس کا "کریڈٹ آور” نظام پرواز کے وقت، زمینی فرائض، تاخیر اور دیگر ذمہ داریوں کو ایک ہی تنخواہی نظام کے تحت شامل کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق ملازمین کو فی کریڈٹ آور 28.88 سے 53.61 کینیڈین ڈالر تک معاوضہ دیا جاتا ہے، جبکہ 80 کریڈٹ آور ماہانہ مکمل وقتی ملازمت تصور کی جاتی ہے۔
ہڑتال کے حق میں بھاری اکثریت
15 جولائی کو فلائٹ اٹینڈنٹس نے ہڑتال کے حق میں ووٹنگ کی تھی، جس میں 99 فیصد ارکان نے اسٹرائیک مینڈیٹ کی حمایت کی، جبکہ ووٹنگ میں شرکت کی شرح 97 فیصد سے زائد رہی۔اس سے قبل 14 جولائی کو یونین نے ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں بھی منعقد کی تھیں، جن میں فلائٹ اٹینڈنٹس نے بہتر تنخواہوں اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کیا تھا۔
موسمِ گرما میں سفری بحران کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کینیڈا میں موسم گرما کی مصروف سفری تعطیلات کے دوران ہزاروں مسافر متاثر ہو سکتے ہیں۔اگرچہ دونوں فریق اب بھی مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم آئندہ چند روز میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ویسٹ جیٹ کی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی یا ملک کو ایک نئے فضائی سفری بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔