اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اونٹاریو حکومت کے واشنگٹن میں نمائندے ڈیوڈ پیٹرسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سینکڑوں کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈا کے جوابی تجارتی اقدامات نے امریکی معیشت پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اب محسوس کر رہی ہے کہ کینیڈا کی جوابی پالیسیوں سے امریکی صنعتیں اور ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں، جو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک اہم موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی گاڑیوں کی برآمدات میں نمایاں کمی
سی بی سی کے پروگرام Power & Politics میں گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ پیٹرسن نے امریکی حکومت کی اس شکایت کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ سال اپریل کے بعد سے امریکا سے کینیڈا کو گاڑیوں کی برآمدات میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک معمولی کمی نہیں بلکہ تجارت میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس کے باعث امریکی ملازمتیں متاثر ہوئی ہیں اور تجارت کا رخ دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہوا ہے۔ان کے مطابق یہی وہ اثر ہے جو کینیڈا نے امریکی محصولات کے جواب میں اپنے اقدامات کے ذریعے پیدا کیا۔
جوابی اقدامات پر امریکا کی تشویش
پیٹرسن کا کہنا تھا کہ اگرچہ کینیڈا کے جوابی اقدامات نے امریکی انتظامیہ کو ناراض کیا ہے، لیکن یہی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کا آغاز بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سمیت دیگر حکام اس معاملے پر حقیقی تشویش رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اب ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جا سکتا ہے۔
کینیڈا کے کون سے ٹیرف اب بھی برقرار ہیں؟
اگرچہ کینیڈا نے گزشتہ برس امریکا پر عائد کئی جوابی محصولات ختم کر دیے تھے، تاہم اب بھی امریکی گاڑیوں، آٹو پارٹس، اسٹیل اور ایلومینیم پر بعض جوابی ٹیرف برقرار ہیں۔امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہی اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
شراب کی فروخت بھی تنازع کا حصہ
امریکی حکومت نے اپنی نئی ٹیرف پالیسی میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ بعض کینیڈین صوبوں میں امریکی شراب کی فروخت پر پابندیاں امریکی کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اسپرٹ بنانے والی کمپنیوں نے ان پابندیوں کو اپنی فروخت کے لیے "تباہ کن” قرار دیا ہے، جبکہ 2025 کے دوران کینیڈا میں امریکی شراب کی فروخت میں 343 ملین امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
19 اگست کی ڈیڈ لائن اہم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ 50 فیصد ٹیرف 19 اگست سے نافذ ہونے کا امکان ہے، تاہم اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تیز کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا کا نیا ٹیرف وار، پاکستان سمیت 60 ممالک کی مصنوعات پر اضافی محصولات نافذ
وزیراعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کے بعد بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مارک کارنی مذاکرات پر پُرامید
وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف ممکنہ ٹیرف کے جواب کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اس کی اولین ترجیح 19 اگست سے پہلے کسی باہمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
ڈیوڈ پیٹرسن نے بھی وزیراعظم کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اور امریکا دنیا کے قریبی اتحادی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کر کے تعلقات کو معمول پر لائیں۔
واشنگٹن میں سفارتی سرگرمیاں تیز
کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی امور کے ذمہ دار وفاقی وزیر ڈومینک لی بلانک بھی اس ہفتے واشنگٹن میں موجود رہے، جہاں انہوں نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کی۔
لی بلانک نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ملاقات جامع رہی اور دونوں فریقوں نے رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
امریکی یونینز بھی ٹیرف کے خلاف
دوسری جانب امریکا کی دو بڑی مزدور تنظیموں یونائیٹڈ اسٹیل ورکرز اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف مشینسٹس اینڈ ایرو اسپیس ورکرز نے بھی امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کیا جائے۔
دونوں تنظیموں نے اپنے مشترکہ خط میں کہا کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات گزشتہ ایک سال سے کشیدگی کا شکار ہیں، جبکہ دونوں ممالک کو آپس میں تنازع بڑھانے کے بجائے چین جیسے ممالک کی غیرمنصفانہ تجارتی پالیسیوں کا مشترکہ مقابلہ کرنا چاہیے۔
معاہدہ یا نئی تجارتی جنگ؟
ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر 19 اگست سے پہلے کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک ایک نئی تجارتی جنگ سے بچ سکتے ہیں، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں نئے ٹیرف دونوں معیشتوں، صنعتوں اور سرحد پار تجارت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔