اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) روزمرہ زندگی میں تھوڑا چلنے، سیڑھیاں چڑھنے، تیز رفتاری سے پیدل چلنے یا معمولی جسمانی مشقت کے دوران سانس کا پھول جانا اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں میں بھی یہ شکایت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر معمولی کام کے دوران بار بار سانس پھولنے لگے تو اسے صرف تھکن یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ یہ جسم میں چھپے کسی سنگین طبی مسئلے کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔
طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمیاں
ماہرین کے مطابق جدید طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمیوں میں مسلسل کمی اور بیٹھے بیٹھے زیادہ وقت گزارنے کی عادت نے لوگوں کی مجموعی جسمانی صحت کو متاثر کیا ہے۔ کھانے کے بعد فوراً موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جانا، ورزش نہ کرنا اور غیر متوازن غذا کا استعمال جسمانی فٹنس کو کمزور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معمولی جسمانی مشقت پر بھی سانس پھولنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
خون میں پلاسٹک! دل کی بیماریوں سے متعلق تحقیق نے دنیا کو چونکا دیا
دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر کی بیماری
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سانس پھولنے کی شکایت کو کبھی بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات یہ دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر کی بیماریوں کی ابتدائی علامت ثابت ہوتی ہے۔ اگر سانس لینے میں دشواری کے ساتھ چہرے یا آنکھوں کے گرد سوجن بھی محسوس ہو تو یہ جگر سے متعلق بیماری کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، جبکہ پیروں میں ورم گردوں کی خرابی کی علامت بن سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر ایک ساتھ سوجن ظاہر ہو تو یہ دل کے کسی عارضے کا عندیہ بھی ہو سکتا ہے۔
خون کی کمی
طبی ماہرین کے مطابق سانس پھولنے کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں خون کی کمی (اینیمیا)، جسمانی کمزوری، دمہ، موسمی الرجی، نزلہ، کھانسی، بلغم، پھیپھڑوں کی مختلف بیماریاں اور طویل عرصے تک سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ ہر مریض میں اس مسئلے کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر خود سے بیماری کا تعین کرنا یا علاج شروع کرنا مناسب نہیں۔
سانس لینے میں دشواری کا تعلق نظامِ ہاضمہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض افراد میں سانس لینے میں دشواری کا تعلق نظامِ ہاضمہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ کھانے کے فوراً بعد مسلسل بیٹھے رہنے، جسمانی سرگرمی سے گریز کرنے اور چکنائی یا مصالحے دار غذا کے زیادہ استعمال سے معدے میں گیس اور تیزابیت پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث سینے میں بھاری پن اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ کیفیت ہر فرد میں کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتی، تاہم بار بار ہونے کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سانس پھولنے کی شکایت اگر مسلسل برقرار رہے یا اس کے ساتھ سینے میں درد، چکر آنا، بے ہوشی، شدید تھکن، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا یا جسم کے مختلف حصوں میں سوجن جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص سے بیماری کی اصل وجہ معلوم کی جا سکتی ہے اور مناسب علاج کے ذریعے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلنے کی عادت بنائیں
صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلنے یا ہلکی ورزش کو معمول بنایا جائے، متوازن غذا کا استعمال کیا جائے، تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کیا جائے اور کھانے کے بعد چند منٹ چہل قدمی کی عادت اپنائی جائے۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی نہ صرف جسمانی فٹنس کو بہتر بناتا ہے بلکہ دل، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کو بھی فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
نوجوانوں میں جگر کی بیماری میں خطرناک حد تک ا ضافہ،وجہ کیا ہے ؟
ماہرین نے زور دیا ہے کہ سانس پھولنے کی شکایت کو معمول کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ کیفیت بار بار پیش آئے یا وقت کے ساتھ شدت اختیار کرے تو مستند معالج سے رجوع کرکے مکمل طبی معائنہ کرانا ہی صحت کے تحفظ کا بہترین طریقہ ہے۔