اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان تصاویر کا خطرناک انداز میں غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر بے ضرر خاندانی تصاویر بھی سائبر جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ لگنے کے بعد بچوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
‘شرینٹنگ’ کا بڑھتا رجحان تشویش کا باعث
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق والدین کی جانب سے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو "شرینٹنگ” (Sharenting) کہا جاتا ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کی کامیابیوں، سالگرہ، تعطیلات اور دیگر خوشگوار لمحات کو دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، لیکن ایک بار تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہونے کے بعد ان کے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
ماہرین کے مطابق یہی تصاویر بعد ازاں بچوں کی پرائیویسی اور آن لائن تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
اے آئی کے ذریعے تصاویر کا خطرناک استعمال
نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے عام تصاویر کو حقیقت سے قریب تر جعلی تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ان تصاویر کو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
زمین سے 146 نوری سال دور زمین سے مشابہ سیارہ دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے سائبر جرائم کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے، جس کے باعث والدین کو پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (IWF) کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی بچوں سے متعلق تقریباً 3 ہزار 500 جعلی تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے کیسز کی تعداد صرف 13 تھی۔
ماہرین کے مطابق ایک ہی سال میں اس قدر اضافہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بچوں سے متعلق سائبر جرائم میں تیزی آ رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے والدین اور متعلقہ اداروں کو مزید محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
والدین کن احتیاطی تدابیر پر عمل کریں؟
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پرائیویٹ رکھیں اور بچوں کی تصاویر صرف قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر دستیاب "کلوز فرینڈز” یا دیگر پرائیویسی فیچرز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تاکہ تصاویر ہر کسی کی دسترس میں نہ آئیں۔
اس کے علاوہ بچوں کی ایسی تصاویر شیئر کرنے سے بھی گریز کیا جائے جن میں اسکول کا نام، یونیفارم، گھر کا پتہ، روزمرہ معمولات یا لوکیشن جیسی معلومات واضح ہو رہی ہوں، کیونکہ یہ معلومات جرائم پیشہ افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
بچوں کی رائے کو بھی اہمیت دیں
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر بچے مناسب عمر اور سمجھ رکھتے ہوں تو ان کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ان کی رضامندی ضرور حاصل کریں۔ اس سے بچوں میں اپنی ڈیجیٹل شناخت اور پرائیویسی کے حوالے سے شعور پیدا ہوگا اور وہ اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کی اہمیت کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :
خلا میں پہلی بار شکر کی دریافت، سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ
ڈیجیٹل دور میں احتیاط ناگزیر
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کی آن لائن حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق معمولی سی لاپرواہی بھی بچوں کی پرائیویسی اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری سے استعمال کریں، پرائیویسی سیٹنگز کا خیال رکھیں اور بچوں کی ذاتی معلومات کو غیر ضروری طور پر انٹرنیٹ پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔