اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر کیے جانے والے حملوں کا مقصد اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے اور امریکا اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں گے
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کا مقصد اسے دباؤ میں لانا ہے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایرانی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
معاہدے پر اعتماد کم ہونے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کہا کہ اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران جھوٹ بولتا ہے اور وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔جب ان سے ایران کے ساتھ جنگ بندی بحال ہونے کے امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ امریکا صرف فتح چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سعودی وزیر دفاع کی ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ایران کشیدگی کم کرنے کا پیغام پہنچایا
جنگ ہمارے حق میں جا رہی ہے
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ امریکا کے حق میں جا رہی ہے اور ایران کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے اور تہران کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
جوہری ہتھیاروں پر سخت مؤقف
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو پورا مشرق وسطیٰ تباہی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے گا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران پر مزید دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ایران بھی کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دینے کا اعلان کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔