ایران امریکا کشیدگی میں سفارتکاری کا نیا موڑ، پزشکیان کا مذاکرات کو بہترین موقع قرار دینا کیا ظاہر کرتا ہے؟

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو ایران کے ساتھ مفاہمت کی طرف آنے پر مجبور کیا ہے، تہران کی موجودہ حکمت عملی کی اہم جھلک پیش کرتا ہے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست کشیدگی، جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور باہمی اعتماد کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ صورتحال معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہترین وقت ہے، تاہم تہران کا مؤقف یہ بھی ہے کہ کسی بھی مفاہمت کی بنیاد ایران کے وقار اور خودمختاری پر ہونی چاہیے۔

مذاکرات کو دباؤ کا ذریعہ قرار

پزشکیان نے تہران میں نیوز کانفرنس کے دوران یہ تاثر دیا کہ ایران نے مذاکرات کو محض سفارتی عمل کے طور پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔

ان کے مطابق سفارتکاری کے نتیجے میں امریکا کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا پڑی اور اب معاہدے کی جانب بڑھنے کا ایک موقع موجود ہے۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت جنگ یا براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کو اہم سمجھ رہی ہے۔تاہم تہران یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ مذاکرات کا مطلب دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر بات چیت ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ

ایرانی صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سمجھوتے کے تحت امریکا کے لیے ضروری تھا کہ ایران اور عمان کی تیار کردہ گائیڈ لائنز پر عمل کیا جائے، تاہم ان کے مطابق امریکا نے ایسا نہیں کیا۔

یہ دعویٰ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی عمل میں تحریری یقین دہانیوں اور طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد کو بنیادی اہمیت دے گا۔

تہران کے لیے ماضی کے تجربات خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ ایرانی حکام کئی مرتبہ یہ مؤقف اختیار کرچکے ہیں کہ کسی معاہدے کی کامیابی صرف اس وقت ممکن ہے جب فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

معاہدے کی خلاف ورزی بڑا مسئلہ

پزشکیان نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ایک مخصوص ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جو معاہدے کی خلاف ورزیوں سے نمٹ سکے۔ اس بیان کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ ایران مستقبل کے کسی معاہدے کو صرف سیاسی وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی نگرانی اور عمل درآمد کے لیے واضح نظام چاہتا ہے۔

یہ نکتہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کے شدید فقدان کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی میں سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ ایک فریق دوسرے کی یقین دہانیوں اور وعدوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتا۔

جنگ کے بجائے سیاسی راستہ

پزشکیان نے امریکا کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مجرم اور استعماری حکومت قرار دیا، تاہم ساتھ ہی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کی۔

یہ بظاہر متضاد مؤقف دراصل ایران کی موجودہ سفارتکاری کا اہم پہلو ہوسکتا ہے۔ تہران ایک طرف امریکا کے خلاف سخت سیاسی زبان استعمال کرکے داخلی سطح پر اپنی مزاحمتی پالیسی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ مذاکرات کے ذریعے معاشی اور سیاسی دباؤ کم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل کا عنصر

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل دونوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کو حکم ماننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

اس بیان میں ایران کی دفاعی اور سیاسی سوچ کا اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ تہران سمجھتا ہے کہ فوجی دباؤ کے باوجود قومی سطح پر مزاحمت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت قومی اتحاد کو اپنی سلامتی کی بنیادی ضرورت قرار دے رہی ہے۔

داخلی اتحاد پر زور

پزشکیان نے خبردار کیا کہ مخالف قوتیں ایران کے اندر تقسیم، اختلاف اور تنازعات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ اس لیے انہوں نے قومی اتحاد اور مزاحمت کو سکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔

یہ پیغام صرف بیرونی طاقتوں کے لیے نہیں بلکہ ایرانی عوام اور سیاسی حلقوں کے لیے بھی ہے۔ تہران واضح طور پر یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی سیاسی استحکام ضروری ہے۔

آگے کا راستہ کیا ہوگا؟

پزشکیان کا موجودہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مکمل طور پر مذاکرات سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔ بلکہ تہران ممکنہ معاہدے کو اپنے مفادات، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔

اگر امریکا اور ایران واقعی کسی نئے سمجھوتے کی طرف بڑھتے ہیں تو سب سے بڑا چیلنج صرف معاہدہ کرنا نہیں بلکہ اسے قابلِ اعتماد اور دیرپا بنانا ہوگا۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اقدامات، ضمانتوں اور وعدوں پر اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔

موجودہ صورتحال میں سفارتکاری کو موقع ملنا خطے کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے پزشکیان کا مذاکرات کو بہترین وقت قرار دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران کم از کم سیاسی سطح پر کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے قابو کرنے کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں