اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست ایلون مسک کی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا۔
جولائی 2025 سے جولائی 2026 تک ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت میں تقریباً 320 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اوسطاً روزانہ تقریباً 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بنتا ہے۔
مالیاتی شعبے کے تحقیقی ادارے بیسٹ بروکرز کی جانب سے مرتب کیے گئے تجزیے میں فوربز کی ریئل ٹائم ارب پتی فہرست سے حاصل ہونے والے مختلف اوقات کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ تجزیے میں ایک سال کے وقفے سے مسک کی دولت کی مالیت کا موازنہ کرتے ہوئے مجموعی اضافے کا تخمینہ لگایا گیا۔
اسپیس ایکس کی مالیت میں اضافہ اہم وجہ
تجزیے کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں اس بڑے اضافے کے پیچھے ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کی قدر میں نمایاں تبدیلی بنیادی عوامل میں شامل رہی۔ کمپنی کے حصص کی قیمت میں تیزی کے نتیجے میں مسک کے پاس موجود حصص کی مجموعی مالیت بھی بڑھ گئی۔
یہ بھی پڑھیں :
2036 میں پیسے کی ضرورت ختم ہوجائے گی؟ ایلون مسک کی حیران کن پیشگوئی
12 جون کو اسپیس ایکس سے متعلق ہونے والی اہم مارکیٹ پیش رفت کے بعد کمپنی کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس اضافے نے ایلون مسک کی مجموعی دولت کو بھی تاریخی سطح تک پہنچا دیا۔
دولت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگئی
اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں اضافے کے دوران ایلون مسک کی مجموعی دولت عارضی طور پر ایک ٹریلین ڈالر کی حد سے اوپر چلی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد وہ دنیا کے پہلے ایسے شخص بن گئے جن کی دولت نے ایک ٹریلین ڈالر کا سنگ میل عبور کیا۔
تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں بعد کے ہفتوں کے دوران نمایاں کمی ہوئی، جس کے اثرات براہ راست مسک کی مجموعی دولت پر بھی پڑے اور ان کے اثاثوں کی مالیت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔
موجودہ دولت میں نمایاں اتار چڑھاؤ
اگست 2026 کے آغاز میں مختلف عالمی مالیاتی ٹریکرز کی جانب سے ایلون مسک کی دولت کے حوالے سے مختلف اندازے سامنے آئے۔ ان ذرائع کے مطابق ان کی مجموعی دولت تقریباً 675 ارب ڈالر سے 780 ارب ڈالر کے درمیان رہی۔
بلومبرگ بِلینئرز انڈیکس نے مسک کی دولت کا تخمینہ تقریباً 777 ارب ڈالر لگایا، جبکہ فوربز کی ریئل ٹائم فہرست میں ان کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 744 ارب ڈالر بتائی گئی۔
حصص کی قیمتیں ارب پتیوں کی دولت پر اثرانداز ہوتی ہیں
ایلون مسک کی دولت میں ہونے والی تیزی اور بعد میں آنے والی کمی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا کے بڑے کاروباری افراد کی مجموعی دولت کس حد تک کمپنیوں کے حصص اور مارکیٹ ویلیو سے منسلک ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
لینگلے میں ایلون مسک کی ٹیسلا کمپنی کے خلاف احتجاج
چونکہ مسک کے بڑے اثاثوں کا ایک اہم حصہ مختلف کمپنیوں میں ان کی ملکیت اور حصص پر مشتمل ہے، اس لیے مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے ان کی کاغذی دولت میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کا فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
امیر ترین شخص کا اعزاز برقرار
اگرچہ اسپیس ایکس سے متعلق مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایلون مسک کی دولت میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی، تاہم وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین شخص ہیں۔ دستیاب مالیاتی اشاریوں کے مطابق ان کی دولت دوسرے نمبر پر موجود امیر ترین افراد کے مقابلے میں خاصے بڑے فرق سے زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مسک کی دولت میں آئندہ بھی اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، کیونکہ ان کے اثاثوں کی مالیت کا بڑا حصہ ایسی کمپنیوں سے وابستہ ہے جن کی قدر عالمی مالیاتی منڈیوں میں تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔