اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ٹورنٹو میں سالسا آن سینٹ کلیئر فیسٹیول کے دوران پیش آنے والے مہلک فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر بھر میں اسٹریٹ فیسٹیولز کی سیکیورٹی سخت کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
وارڈ 12 (ٹورنٹو–سینٹ پالز) کے سٹی کونسلر جوش میٹلو نے پیر کو کہا کہ عوامی تقریبات کے تحفظ کے حوالے سے "ہر آپشن زیر غور ہے” اور مستقبل میں فیسٹیولز کو محفوظ بنانے کے لیے تمام تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
ہفتے کی شب ہونے والی اندھا دھند فائرنگ میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد فیسٹیول کا آخری روز بھی منسوخ کر دیا گیا۔
جوش میٹلو کا کہنا تھا کہ انہیں خوفزدہ اور مشتعل شہریوں کی بڑی تعداد نے مختلف تجاویز بھیجی ہیں۔ بعض افراد نے سالسا فیسٹیول مکمل طور پر ختم کرنے، بعض نے اسے پارک جیسے محدود مقام پر منتقل کرنے، جبکہ کچھ نے تقریب کو صرف دن کے اوقات تک محدود رکھنے کی تجویز دی ہے تاکہ شام کے وقت پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پولیس کو ایسا توازن قائم کرنا ہوگا جس سے ایک طرف عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور دوسری جانب لوگ آزادانہ طور پر ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی تقریبات سے لطف اندوز بھی ہو سکیں۔
میٹلو نے کہا کہ گزشتہ برس وینکوور میں لاپو لاپو فیسٹیول میں گاڑی چڑھانے کے حملے کے بعد حفاظتی اقدامات میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، تاہم اسلحہ یا چاقو جیسے خطرات کی روک تھام زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
ٹورنٹو پولیس چیف مائرون ڈیمکیو نے بھی کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس، سٹی انتظامیہ اور فیسٹیول منتظمین کو مستقبل میں تقریبات کی اجازت، انتظامات اور سیکیورٹی سے متعلق نئے اقدامات پر مشترکہ غور کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق کنٹرولڈ انٹری پوائنٹس اور سیکیورٹی اسکریننگ جیسے اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب سالسا آن سینٹ کلیئر فیسٹیول کی شریک چیئر ہیدر ہینا نے کہا کہ کھلے عوامی فیسٹیولز میں ایسے غیر متوقع خطرات کو مکمل طور پر روکنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ان کا مقصد عوام کے لیے کھلا اور خوش آمدیدی ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں رواں ہفتے منعقد ہونے والے ٹورنٹو کے ایک اور معروف اسٹریٹ فیسٹیول بگ آن بلور کے منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی مزید بڑھائیں گے، نمایاں چیک پوائنٹس قائم کیے جائیں گے اور فیسٹیول کے لے آؤٹ میں تبدیلی کر کے ہجوم کو کم اور ہنگامی اخراج کے راستوں کو زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔
واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا کہ فیسٹیول میں لوگ رقص، موسیقی اور خاندانی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز گونجی اور ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے۔پولیس کے مطابق ہفتے کی رات ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔