اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں 11 سالہ پارکر کی یاد میں ایک جذباتی تعزیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں سینکڑوں شہریوں نے شرکت کر کے بچے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پارکر گزشتہ ماہ لاپتا ہوگیا تھا اور تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والی وسیع تلاش کے بعد گزشتہ ہفتے اس کی موت کی تصدیق کی گئی، جس کے بعد پورا شہر غم کی کیفیت میں ڈوب گیا۔
میونسپل پلازہ میں سٹی ہال کے باہر منعقد ہونے والی اس تقریب میں دعائیں کی گئیں، گیت پیش کیے گئے اور مقررین نے پارکر کی زندگی، اس کے خاندان اور تلاش کے دوران عوام کے غیر معمولی تعاون کو سراہا۔
دو ہفتوں تک جاری رہنے والی تلاش
11 سالہ پارکر، جو آٹزم کا شکار تھا اور بولنے سے قاصر تھا، 16 جولائی کو اپنی خصوصی نگہداشت کے مرکز سے لاپتا ہوگیا تھا۔اس کی گمشدگی کے بعد کیلگری پولیس، تربیت یافتہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں اور ہزاروں رضاکاروں نے مسلسل کئی روز تک مختلف علاقوں میں تلاش جاری رکھی، تاہم تمام کوششوں کے باوجود گزشتہ ہفتے پولیس نے اس کے باقیات ملنے کی تصدیق کر دی۔اس خبر نے نہ صرف پارکر کے خاندان بلکہ پورے شہر کو غمزدہ کر دیا۔
شہریوں کی بڑی تعداد شریک
پارکر کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے شمعیں روشن کیں، خاموشی اختیار کی اور متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔تقریب کے دوران ایک خصوصی کوائر نے دعائیہ نغمے بھی پیش کیے، جبکہ مقررین نے پارکر کی زندگی کو محبت، ہمدردی اور امید کی علامت قرار دیا۔
کمیونٹی کا غیر معمولی اتحاد
کیلگری کے وارڈ فور کے کونسلر ڈی جے کیلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تلاش کا اختتام اس انداز میں نہیں ہوا جس کی سب کو امید تھی، لیکن اس مشکل وقت میں شہریوں نے جس طرح ایک دوسرے کا ساتھ دیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پارکر کی تلاش میں ہزاروں افراد نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے حصہ لیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیونٹی مشکل وقت میں ایک خاندان کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ تقریب صرف غم منانے کے لیے نہیں بلکہ اس اتحاد کو یاد رکھنے کے لیے بھی منعقد کی گئی ہے جو اس مشکل وقت میں دیکھنے میں آیا۔
پولیس چیف کا جذباتی بیان
کیلگری پولیس چیف کیٹی میک لیلن نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ اپنے 35 سالہ پولیس کیریئر میں انہوں نے پہلی بار کسی گمشدہ بچے کی تلاش میں عوام کا ایسا غیر معمولی تعاون دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں :کیلگری میں خوفناک ٹریفک حادثہ، چار افراد ہلاک، گاڑیاں شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں
انہوں نے کہا کہ پارکر کی کہانی نے ہر شخص کے دل کو چھو لیا اور یہ ثابت کیا کہ لوگ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کے لیے فوری طور پر متحد ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ہمیشہ یاد دلائے گا کہ ایک مضبوط معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ انسانیت اور باہمی تعاون سے تشکیل پاتا ہے۔
میئر کا پیغام
کیلگری کے میئر جیرومی فارکس نے کہا کہ پورا شہر اس وقت ایک ہی غم میں شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ پارکر کا واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں اور ان کے خاندانوں کو مزید سہولتیں، تحفظ اور سماجی تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
میئر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر ایسے اقدامات کرے گا جن سے ہر بچہ خود کو محفوظ اور ہر خاندان خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
آٹزم سے متعلق آگاہی پر زور
تعزیتی تقریب کی منتظمین میں شامل بیکی ولموٹ نے کہا کہ اگرچہ پارکر کی موت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن امید ہے کہ اس کا واقعہ معاشرے میں آٹزم اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے مسائل کے بارے میں شعور بیدار کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بچوں کے لیے بہتر حفاظتی انتظامات، خصوصی نگہداشت اور عوامی آگاہی مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک بچے کی یاد، ایک شہر کا عزم
پارکر کی المناک موت نے کیلگری کے شہریوں کو غم میں ضرور مبتلا کیا، لیکن اس واقعے نے کمیونٹی کے اتحاد، ہمدردی اور باہمی تعاون کی ایک مضبوط مثال بھی قائم کی۔ ہزاروں افراد کی رضاکارانہ کوششوں اور تعزیتی تقریب میں عوام کی بڑی شرکت نے یہ پیغام دیا کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت زندہ رہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارکر کی کہانی اب صرف ایک گمشدہ بچے کی داستان نہیں رہی بلکہ یہ آٹزم کے شکار بچوں کے تحفظ، ان کے حقوق اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری پر سنجیدہ غور و فکر کا باعث بھی بن چکی ہے۔