اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا میں آئندہ 19 اکتوبر کو ایک عوامی ریفرنڈم کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ آیا البرٹا کو کینیڈا کا حصہ رہنا چاہیے یا مستقبل میں علیحدگی کے لیے ایک حتمی اور قانونی طور پر پابند (binding) ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے۔ اس فیصلے کی بنیاد شہریوں کی جانب سے چلائی جانے والی دو بڑی مہمات اور پٹیشنز پر رکھی گئی ہے۔
کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامی گروپ "فارایور کینیڈا” کی پٹیشن پر تقریباً 4,00,000 شہریوں نے دستخط کیے تھے۔ دوسری طرف، علیحدگی پسند گروپ "اسٹے فری البرٹا” نے البرٹا کو آزاد ریاست بنانے کے حق میں تقریباً 3,00,000 دستخط جمع کرائے تھے، تاہم بعد میں ایک جج نے اس پٹیشن کو یہ کہتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہ حکومت اس معاملے پر فرسٹ نیشنز (مقامی قبائل) سے مشاورت کرنے میں ناکام رہی۔
یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل سمتھ کا کہنا ہے کہ وہ ان لاکھوں شہریوں کے دستخطوں کو نظرانداز نہیں کر سکتیں اور یہ ریفرنڈم عوام کو اپنی رائے کا موقع دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حق میں ووٹ دیں گی، لیکن وہ توانائی اور ماحولیاتی پالیسیوں پر اوٹاوا (وفاقی حکومت) کے خلاف عوام کے شدید تحفظات اور شکایات کو اچھی طرح سمجھتی ہیں۔