اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ان کا مؤقف وقت کے ساتھ تبدیل ہوا کیونکہ امریکہ کے مقاصد بتدریج واضح ہوتے گئے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز پر مقاصد کی نوعیت اور دائرہ کار مکمل طور پر واضح نہیں تھا، تاہم بعد میں صورتحال بدلتی گئی جس کے باعث کینیڈا کی پوزیشن میں بھی نرمی اور تبدیلی آئی۔فروری اٹھائیس کو جب امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی شروع کی تو کینیڈا نے ابتدائی طور پر اس کی مکمل حمایت کی، لیکن چند ہی دن بعد وزیرِاعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس معاملے میں اقوامِ متحدہ سے مشاورت نہیں کی گئی، اور یہ اقدام ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی، جہاں بعض ناقدین نے کہا کہ حکومت نے اپنے اصولی مؤقف کو کمزور کیا ۔
جبکہ دیگر نے اسے بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے متضاد بیان قرار دیا۔وزیرِاعظم نے کہا کہ کینیڈا کا مؤقف طویل عرصے سے یہ رہا ہے کہ ایران دنیا میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا ایک بڑا مرکز ہے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی مقصد کے حصول کا طریقہ کار بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔کینیڈا اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوا، تاہم حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر پائیدار جنگ بندی قائم ہوتی ہے تو خلیج میں بحری راستوں کی بحالی کے لیے تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِاعظم اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس وقت مکمل اور دیرپا جنگ بندی موجود نہیں، اس لیے کینیڈا کسی عملی اقدام کی پوزیشن میں نہیں ہے۔