اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ٹورنٹو میں قائم اپنے قونصل خانے پر مارچ میں ہونے والی فائرنگ کو ایران نواز مسلح نیٹ ورک سے جوڑتے ہوئے ایک عراقی شہری پر سنگین دہشت گردی کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزم محمد باقر سعد داؤد الساعدی نہ صرف کینیڈا میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھا بلکہ یورپ بھر میں تقریباً 20 دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی بھی کر رہا تھا۔امریکی حکام کے مطابق الساعدی کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس پر دہشت گردی سے متعلق 6 مقدمات درج کیے گئے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم ایران کے حمایت یافتہ گروپ ’’کتائب حزب اللہ‘‘ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم رکن کے طور پر سرگرم تھا۔امریکی تفتیشی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الساعدی اور اس کے ساتھیوں نے 10 مارچ 2026 کو ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی منصوبہ بندی کی اور بعد ازاں اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ واقعے کے دوران دو مشتبہ افراد ایک سفید رنگ کی گاڑی میں آئے، قونصل خانے پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے تھے۔
حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم عمارت کو نقصان پہنچا اور جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول برآمد کیے گئے تھے۔کینیڈین پولیس اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے اس واقعے کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی تھیں۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق خفیہ ذرائع سے ریکارڈ کی گئی گفتگو میں الساعدی نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ ’’ہمارے لوگ‘‘ کینیڈا میں قونصل خانے اور ایک یہودی عبادت گاہ پر حملوں میں ملوث تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے شمالی امریکا میں مزید حملوں کے لیے مختلف ٹیموں کی نگرانی کا بھی اعتراف کیا اور حملہ آوروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے بیلجیئم، فرانس، نیدرلینڈز اور برطانیہ میں دھماکوں، آتشزدگی اور چاقو حملوں سمیت متعدد کارروائیاں کیں جن میں یہودی اسکول، عبادت گاہیں، سفارت خانے اور مالیاتی ادارے نشانہ بنے۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل اینڈریو ڈیلک نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف ’’سیاسی بنیادوں‘‘ پر مقدمہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الساعدی کو ترکیہ سے امریکا منتقل کرتے وقت قانونی حوالگی کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔