اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک نئی ‘کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ کا اعلان کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد اگلے پانچ سالوں میں ملک میں تقریباً 1 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری لانا ہے۔
یہ سمٹ اس سال موسم خزاں کے دوران ٹورنٹو میں منعقد کی جائے گی جس میں دنیا بھر سے سرمایہ کاربڑی کمپنیوں کے سی ای اوز اور کاروباری رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق یہ اقدام کینیڈا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کارنی مختلف ممالک کا دورہ کر رہا ہے
اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کر رہا ہے تاکہ انہیں کینیڈا میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ کارنی نے کہا کہ کینیڈا ایک مضبوط توانائی پیدا کرنے والا ملک ہے
یہ بھی پڑھیں
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں کینیڈا کی ممکنہ فوجی شمولیت خارج از امکان نہیں،وزیرِاعظم مارک کارنی
کینیڈا کے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت ہے جو اسے عالمی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتی ہے۔ سربراہی اجلاس سے نئے کاروبار بڑھیں گے، ملازمتیں پیدا ہوں گی اور معیشت مضبوط ہو گی۔
اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دہائی میں کینیڈا میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2015 سے 2024 کے درمیان 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کا سرمایہ ملک سے باہر چلا گیا جسے ایک بڑا اقتصادی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال کینیڈا میں 100 بلین ڈالر سے زیادہ کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کینیڈا اہم شعبوں میں پیش رفت کرتا ہے تو اگلے دس سالوں میں 1.8 ٹریلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری آسکتی ہے۔
اس میں توانائی کے منصوبے، قابل تجدید توانائی، پائپ لائنز، ایل این جی ٹرمینلز اور اہم معدنی علاقوں کی ترقی شامل ہے۔ دوسری جانب کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کی رپورٹ کے مطابق چھوٹے کاروباروں کے لیے حالات بدستور مشکل ہیں اور کاروبار بند ہونے کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
یہ سربراہی اجلاس 14 اور 15 ستمبر کو منعقد ہوگا اور بڑے سرمایہ کاری کے اداروں کے تعاون سے منعقد کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم کینیڈا کی معیشت کو موجودہ عالمی چیلنجز سے نکلنے میں مدد دینے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔