ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کا دباؤ، کینیڈا امریکی مطالبات ماننے پر تیار

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا نے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات میں ٹیرف سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن کے بعض مطالبات ماننے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

مذاکرات سے باخبر صنعتی ذرائع کے مطابق کینیڈین حکومت امریکی شراب کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرنے، ڈیری مصنوعات سے متعلق پالیسی میں تبدیلی اور امریکی گاڑیوں پر عائد جوابی ٹیرف میں نرمی پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کینیڈا کی جانب سے یہ اقدامات اس امید پر کیے جا رہے ہیں کہ امریکا نئی 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے گا اور اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں پر عائد اضافی ٹیرف میں بھی کمی کرے گا۔

امریکی دباؤ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 19 اگست سے 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے کینیڈا کے خلاف شکایات میں امریکی شراب کی فروخت پر صوبائی پابندیاں، ڈیری مصنوعات کے درآمدی کوٹے اور گاڑیوں سے متعلق تجارتی پالیسی شامل ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ کینیڈا امریکی ڈیری مصنوعات کے لیے ٹیرف ریٹ کوٹے کی تقسیم میں امتیازی طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اسی معاملے کو بھی نئے ٹیرف کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے۔

شراب پر پابندی

کینیڈا کے متعدد صوبوں نے ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد سرکاری شراب کی دکانوں سے امریکی شراب، بیئر اور اسپرٹس ہٹا دی تھیں۔ اس اقدام سے امریکی شراب ساز کمپنیوں کی کینیڈا میں فروخت شدید متاثر ہوئی۔

امریکی اسپرٹ بنانے والی کمپنیوں نے پابندیوں کو اپنی فروخت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے، جبکہ 2025 میں کینیڈا میں امریکی شراب کی فروخت میں 343 ملین امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

کینیڈین ذرائع کے مطابق اب حکومت امریکی شراب کی فروخت سے متعلق پابندیوں میں تبدیلی کے لیے تیار ہے، تاہم اس معاملے میں صوبائی حکومتوں کا کردار اہم ہوگا۔

صوبوں کا فیصلہ

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکی شراب کو دوبارہ شیلف پر رکھنے کا فیصلہ بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کے اختیار میں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شراب سے متعلق پابندیوں میں تبدیلی کو کسی بڑے تجارتی معاہدے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

برٹش کولمبیا کے وزیراعلیٰ ڈیوڈ ایبی سمیت بعض صوبائی رہنماؤں نے ماضی میں امریکی شراب دوبارہ اسٹورز میں رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

ڈیری اور گاڑیوں پر غور

ذرائع کے مطابق کینیڈا امریکی مطالبات کے جواب میں ڈیری سیکٹر میں بھی کچھ تبدیلیاں کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم مذاکرات میں زیر غور ڈیری اصلاحات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس کے علاوہ کینیڈا امریکی گاڑیوں پر عائد جوابی ٹیرف میں بھی نرمی کر سکتا ہے۔ یہ ٹیرف گزشتہ برس ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر تجارتی پابندیوں کے خطرے کے بعد جوابی اقدام کے طور پر عائد کیے گئے تھے۔کینیڈین حکام اس کے بدلے امریکا سے اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں پر عائد سیکٹرل ٹیرف میں نمایاں ریلیف چاہتے ہیں۔

مذاکرات میں تیزی

کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک اور چیف ٹریڈ نیگوشی ایٹر جینس چیئریٹ نے جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر سے ملاقات کی۔

لی بلانک نے ملاقات کو تعمیری اور تفصیلی قرار دیا، تاہم ان کے دفتر نے مذاکرات میں زیر بحث مخصوص تجاویز پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے 19 اگست کی ڈیڈ لائن تک مختلف سطحوں پر روزانہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

جامع معاہدے کی خواہش

وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا صرف فوری ٹیرف ریلیف نہیں بلکہ ایک جامع تجارتی معاہدہ چاہتا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان اہم اور اسٹریٹجک شعبوں کو شامل کیا جائے۔

کارنی کے مطابق مذاکرات میں گاڑیوں سمیت تمام اہم شعبوں پر بات چیت جاری ہے اور کینیڈا کی کوشش ہے کہ مستقبل کے لیے ایسا راستہ بنایا جائے جس سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات مستحکم ہوں۔

کینیڈا کی جانب سے یہ بھی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کینیڈا، امریکا اور میکسیکو معاہدے (CUSMA) پر مذاکرات موسم خزاں میں دوبارہ شروع کرنے کا مشترکہ اعلان کیا جائے۔

ڈیڈ لائن قریب

کینیڈین ذرائع کے مطابق 19 اگست کی ڈیڈ لائن مذاکرات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کینیڈین فریق امریکی حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر اس تاریخ سے نئے 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوئے تو کینیڈا میں سیاسی طور پر مذاکرات کو اسی انداز میں جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

دوسری جانب امریکی حکام نے مختلف شعبوں پر عائد موجودہ ٹیرف مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے تاحال مثبت یقین دہانی نہیں کرائی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے اور کینیڈا امریکی مطالبات پر محدود رعایتوں کے بدلے بڑے پیمانے پر ٹیرف ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہمیں فالو کریں