اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مشاورتی ادارے ڈیلوئٹ کینیڈا نے اپنی موسمِ گرما کی معاشی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال کے پہلے حصے میں سست روی کے بعد کینیڈا کی معیشت سال کے اختتام تک بحالی کی جانب بڑھے گی، جبکہ 2026 میں معاشی ترقی کی شرح 0.7 فیصد اور 2027 میں 2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی معیشت اس وقت تجارتی کشیدگی، توانائی کی بلند قیمتوں، سپلائی چین کے مسائل اور کاروباری و عوامی اعتماد میں کمی جیسے عوامل کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
ڈیلوئٹ کینیڈا کی چیف اکانومسٹ ڈان ڈی جارڈنز نے کہا کہ جیسے ہی ان اہم معاشی مسائل پر صورتحال واضح ہوگی، کاروباری سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، جس سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور صارفین کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کینیڈین شہری اپنی مالی صورتحال اور روزگار کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں، تاہم 2027 تک معاشی حالات میں بہتری آنے کی امید ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش گوئی دو اہم مفروضوں پر مبنی ہے۔ پہلا یہ کہ کینیڈا کو امریکی منڈی تک زیادہ تر محصولات سے آزاد رسائی برقرار رہے گی، اگرچہ اسٹیل اور ایلومینیم جیسے بعض شعبے ٹیرف کا سامنا کرتے رہ سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیاں، جن میں بین الصوبائی تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری شامل ہے، کاروباری اعتماد کو بحال کریں گی۔
ڈیلوئٹ نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا کی معیشت اس وقت جمود کا شکار ہے، تاہم اسے مکمل کساد بازاری قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق معیشت کے صرف چند شعبے، جیسے اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی کی صنعت، امریکی محصولات کے باعث متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی تنازعات کینیڈا کی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (CUSMA) یکم جولائی کی تجدیدی ڈیڈ لائن کے قریب پہنچ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر معاہدے میں توسیع نہ ہوئی یا امریکہ نے مزید محصولات عائد کیے تو کینیڈا کی برآمدات، کاروباری اعتماد اور معاشی ترقی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ تاہم تجارتی صورتحال واضح ہونے کی صورت میں غیر یقینی کیفیت کم ہوگی اور متاثرہ شعبوں کے لیے حالات بہتر ہونے کا امکان پیدا ہوگا۔
ڈیلوئٹ کا کہنا ہے کہ رواں سال کاروباری سرمایہ کاری محدود رہے گی کیونکہ کمپنیاں تجارتی صورتحال واضح ہونے کا انتظار کر رہی ہیں، تاہم 2027 میں حکومتی پالیسیوں، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، منصوبوں کی تیز رفتار منظوری، انفراسٹرکچر، دفاع، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت (AI) اور افرادی قوت کی نئی مہارتوں پر سرمایہ کاری کے باعث معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس سے کینیڈا کے توانائی پیدا کرنے والے شعبے کو فائدہ پہنچا، لیکن صارفین اور کاروباری اداروں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تاہم ڈیلوئٹ کو توقع ہے کہ سال کے دوران توانائی کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، جس کے آثار مستقبل کی تیل منڈیوں میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب اسٹیٹسٹکس کینیڈا کے مطابق مئی میں سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.2 فیصد ہوگئی، جو اپریل میں 2.8 فیصد تھی اور دسمبر 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تاہم بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹف میکلم کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر معیشت میں وسیع پیمانے پر افراطِ زر کے شواہد ابھی سامنے نہیں آئے۔