طویل مدتی نگہداشت کی سہولیات کی کمی سے کینیڈا کے ایمرجنسی وارڈز پر دباؤ بڑھ گیا، نئی رپورٹ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈین انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ انفارمیشن (CIHI) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طویل مدتی نگہداشت (لانگ ٹرم کیئر) کی سہولیات اور ہوم کیئر پروگراموں میں جگہوں کی کمی کے باعث ملک بھر کے اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کے انتظار کا دورانیہ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے مریض جو علاج مکمل ہونے کے بعد بحالی مراکز، لانگ ٹرم کیئر ہومز یا ہوم کیئر پروگراموں میں منتقل کیے جا سکتے ہیں، مناسب سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث اوسطاً 24 دن تک اسپتال کے وارڈز میں رکے رہتے ہیں۔

اس صورتحال کے نتیجے میں نئے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے کے لیے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں بستر خالی ہونے کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے دوران اسپتال میں داخل کیے جانے والے نصف مریضوں نے ایمرجنسی وارڈ میں 16 گھنٹے سے زائد انتظار کیا، جبکہ ہر 10 میں سے ایک مریض کو 48 گھنٹے سے زیادہ ایمرجنسی میں گزارنے پڑے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بزرگ افراد اور ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر سمیت دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض سب سے زیادہ دیر تک ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والے 8 فیصد مریض ایسے تھے جنہیں مزید ہنگامی علاج کی ضرورت نہیں تھی، لیکن مناسب بعد از علاج سہولیات دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں اسپتال سے فارغ نہیں کیا جا سکا۔

کینیڈین انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ انفارمیشن کی ڈائریکٹر برائے ہیلتھ سسٹم اینالیٹکس شیرل چوئی نے کہا کہ ایمرجنسی وارڈز میں انتظار کے وقت کو کم کرنے کے لیے پورے صحت کے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔

ان کے مطابق ہر شہری کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے والے ڈاکٹر تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ معمولی مسائل کے لیے ایمرجنسی وارڈز کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم کیئر اور ہوم کیئر کی سہولیات میں بھی اضافہ کرنا ہوگا تاکہ علاج مکمل کرنے والے مریض جلد اسپتال سے منتقل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جب مریض غیر ضروری طور پر اسپتال کے بستروں پر رکے رہتے ہیں تو نئے مریضوں کے لیے بستروں کی دستیابی متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث ایمرجنسی وارڈز میں بھیڑ بڑھ جاتی ہے اور تمام مریضوں کے انتظار کا وقت طویل ہو جاتا ہے۔

یہ رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی، جبکہ اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں کینیڈین ایسوسی ایشن آف ایمرجنسی فزیشنز نے بھی خبردار کیا تھا کہ صحت کے نظام میں موجود خامیوں، خصوصاً بزرگ افراد کے لیے طویل مدتی نگہداشت اور کمیونٹی سپورٹ کی کمی، کے باعث ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق کینیڈا میں ایمرجنسی وارڈز میں آنے والے مریضوں میں 20 سے 40 فیصد بزرگ افراد ہوتے ہیں، جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں درحقیقت لانگ ٹرم کیئر یا کمیونٹی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ اسپتالوں میں زیادہ عرصہ قیام کرتے ہیں، جس سے اسپتالوں اور ایمرجنسی وارڈز میں گنجائش کا بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں