اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے 2025 کا بجٹ پیش کر کے یہ عندیہ دیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران محض وقتی نہیں بلکہ ایک طویل اور فیصلہ کن دوراہا ہے
جہاں ایک غلط قدم پوری معاشی سمت کو متاثر کر سکتا ہے۔ وزیرِ خزانہ فرانسوا فیلیپ شمپین نے بجٹ کو "نسلوں کے لیے فیصلہ کن قدم” قرار دیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس بجٹ میں وہ حقیقت پسندی اور ہنگامی بصیرت موجود ہے جو موجودہ دباؤ کا مقابلہ کر سکے؟
بجٹ میں دو معاشی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے — ایک پر امید اور دوسرا منفی۔ بہتر منظرنامہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کم ہوگی اور عالمی تجارت بحال ہو جائے گی، لیکن یہی وہ جگہ ہے جہاں بجٹ کمزور پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں تجارتی پالیسیاں سیاسی مفادات کی بنیاد پر بدل رہی ہیں، اور ایسے وقت میں صرف امید پر معاشی حکمتِ عملی ترتیب دینا دانشمندی نہیں۔
ماہرینِ معیشت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات قابلِ غور ہیں۔ ڈیوڈ میکڈونل نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ امریکا جیسی بڑی منڈی کا متبادل ڈھونڈنے کا دعویٰ عملی اعتبار سے ایک مشکل ہدف ہے۔ اسی طرح، اربوں ڈالر کی ٹیکس مراعات اور صنعتی سرمایہ کاری کے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کے ثمرات درمیانی اور طویل مدت میں سامنے آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس دوران معیشت اور روزگار کو سہارا کیسے دیا جائے گا؟
یہاں بجٹ کی سب سے بڑی آزمائش سامنے آتی ہے: اگر بیروزگاری بڑھی، تجارت مزید سست ہوئی یا کساد بازاری سرکاری طور پر تسلیم کر لی گئی تو پورا بجٹ از سرِ نو ترتیب دینا پڑے گا۔ حکومت نے جس معاشی مستحکم مستقبل کا نقشہ کھینچا ہے، وہ تب ہی ممکن ہے جب حالات مزید بگڑنے کے بجائے کم از کم موجود سطح پر قائم رہیں — اور یہی اصل تشویش ہے۔
کینیڈا کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ کس طرح ترقی کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بحران کو کس طرح گہرا ہونے سے روک سکتا ہے۔ اگر موجودہ پالیسیاں کاروبار، روزگار اور برآمدات کو سہارا دینے میں کامیاب رہیں تو یہ بجٹ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، ورنہ یہ محض ایک سیاسی دعوے کی عملی مثال بن کر رہ جائے گا۔