اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں شہری انتظامیہ کی جانب سے شہر کے وسط میں نیا پولیس تھانہ قائم کرنے کی تجویز نے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔
میئر جیرومی فرکاس کی طرف سے پیش کی گئی تحریک کو ایک طرف عوامی تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسے اختیارات کی حد سے تجاوز بھی کہا جا رہا ہے۔
شہری کونسل کی رکن جینیفر وائنَس، جو پولیس کمیشن کا بھی حصہ ہیں، نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے براہ راست منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ ان کے مطابق ماضی میں پولیس کمیشن اسی لیے تشکیل دیا گیا تھا تاکہ پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ تجویز ایک ایسے مبہم دائرے میں داخل ہو رہی ہے جہاں یہ واضح نہیں کہ فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے۔
صوبائی قانون کے مطابق اگرچہ بلدیاتی ادارے پولیس کے اخراجات برداشت کرتے ہیں، لیکن ان وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے، اس کا فیصلہ پولیس کمیشن ہی کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر ناقدین کا کہنا ہے کہ میئر کی یہ پیش رفت انتظامی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب شہری انتظامیہ کی قانونی مشیر جل فلون نے وضاحت دی ہے کہ اس تحریک میں کسی حتمی اقدام کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ صرف اس بات کا جائزہ لینے کے لیے رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ آیا شہر کے مرکز میں پولیس تھانہ قائم کرنا ممکن اور مفید ہوگا یا نہیں۔ ان کے مطابق قانونی طور پر یہ تجویز قابل قبول ہے، اگرچہ یہ اختیارات کی حد کے قریب ضرور پہنچتی ہے۔
پولیس کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم کسی نئے تھانے کے قیام سے اضافی مالی اور انتظامی بوجھ پڑے گا۔ کمیشن کے مطابق پہلے سے طے شدہ حکمت عملی ہی شہریوں کے تحفظ کو مؤثر انداز میں یقینی بنانے کے لیے کافی سمجھی گئی ہے۔
میئر جیرومی فرکاس نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ عوامی تحفظ شہری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس حوالے سے پولیس کمیشن کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن یہ ثابت کر دے کہ بغیر نئے تھانے کے بھی شہر کے مرکز میں مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے تو وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔
واضح رہے کہ اس وقت شہر کے وسط میں ایک محدود نوعیت کی پولیس سہولت موجود ہے، جو نہ تو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے، نہ وہاں گشت کرنے والے اہلکار مستقل طور پر تعینات ہیں، اور نہ ہی وہاں گرفتار افراد کے لیے مکمل کارروائی کی سہولت موجود ہے۔
یہ تجویز اب چھبیس مئی کو ہونے والے شہری کونسل کے باقاعدہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، جہاں اس پر مزید تفصیلی بحث کے بعد کوئی حتمی سمت طے کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انتظامی اختیارات کی حد بندی بلکہ شہری سلامتی کی مجموعی حکمت عملی کے لیے بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔