اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں جنسی تشدد سے آگاہی کے مہینے کے موقع پر حکومت نے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، عوامی شعور میں اضافہ اور ایسے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جن کا مقصد جنسی تشدد کی روک تھام ہے۔
صوبائی وزیر برائے اطفال و خاندانالی خدمات، سرل ٹرٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہر شہری کو اپنے گھر، تعلقات اور معاشرے میں محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ مہینہ اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ متاثرین پر پڑنے والے اثرات کو تسلیم کیا جائے اور یہ یاد دہانی بھی کرواتا ہے کہ جنسی تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام میں ہم سب کا کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے افراد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہیں، جس کے جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکومت آگاہی بڑھانے، کھلے مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنے اور روک تھام کے اقدامات کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔
حکومت نے مالی منصوبہ دو ہزار چھبیس کے تحت خاندانی اور جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے تریانوے ملین ڈالر سے زائد رقم مختص کی ہے، جبکہ جنسی زیادتی سے متعلق مراکز کو مزید تین اعشاریہ تین ملین ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے مزید بہتر بنا سکیں۔ ان مراکز اور متعلقہ تنظیموں کے کردار کو سراہتے ہوئے حکومت نے ان کے ساتھ شراکت داری کو اہم قرار دیا۔
مزید برآں، حکومت بچوں اور نوجوانوں کے معاونتی مراکز میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کو مربوط سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے خاندانوں کو عدالتی نظام میں رہنمائی دی جاتی ہے۔
سرل ٹرٹن نے کہا کہ اگر کوئی فرد یا اس کا جاننے والا جنسی تشدد کا سامنا کر رہا ہو تو وہ اکیلا نہیں ہے، مدد کے لیے مخصوص ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے یا قریبی مرکز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر برائے فنون، ثقافت اور خواتین کی حیثیت، تانیہ فر نے کہا کہ تقریباً اٹھارہ لاکھ افراد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں جنسی تشدد کا سامنا کر چکے ہیں، جو ایک ناقابل قبول حقیقت ہے۔ ان کے مطابق یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا، نقصان دہ معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا اور تشدد کے وقوع سے پہلے اس کی روک تھام کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت نے صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے دس سالہ حکمت عملی کا آغاز کیا، جس کے تحت مربوط اقدامات کے ذریعے تشدد کی روک تھام، وسائل کی بہتری اور ذمہ داران کو جواب دہ بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت تقریباً پچاس فوری اقدامات پر عمل جاری ہے، جن میں متاثرین کی بحالی کے لیے چھ ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری، انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کی مضبوطی، اور تعلیمی اداروں میں روک تھام کے پروگرام شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مردوں اور لڑکوں کو بھی اس جدوجہد میں شریک کیا جا رہا ہے کیونکہ مثبت تبدیلی کے لیے ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے ہیں جہاں احترام، شعور اور متاثرین کی معاونت کو فروغ دیا جائے، تاکہ ہر فرد خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔
ایک اور بیان میں کہا گیا کہ مقامی خواتین، بچیوں اور دوہری شناخت رکھنے والے افراد کے خلاف تشدد کی شرح اب بھی انتہائی بلند ہے۔ لاپتہ اور قتل ہونے والی مقامی خواتین و بچیوں کا مسئلہ بدستور ایک سنگین بحران کی صورت میں موجود ہے، جو خاندانوں اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مقامی برادریوں، تنظیموں اور رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو بنیادی وجوہات کا خاتمہ کریں اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس میں متاثرین اور ان کے خاندانوں کو درکار معاونت فراہم کرنا، روک تھام کے اقدامات کو فروغ دینا اور جامع حکمت عملی کے تحت پیش رفت کو یقینی بنانا شامل ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اس مہینے اور اس کے بعد بھی، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایک محفوظ، باوقار اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر فرد کو تحفظ اور معاونت میسر ہو۔