اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ کی حکومت نے بجٹ سے متعلق ایک جامع مسودہ قانون منظور کرانے کے لیے پارلیمانی عمارت میں غیر معمولی طور پر رات گئے اجلاس منعقد کیا، جس میں معلومات تک رسائی کے قوانین میں متنازع تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس اقدام پر حزب اختلاف نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔
عام طور پر قانون سازی کے عمل کے تحت کسی بھی بل کو کمیٹی کے پاس بھیجا جاتا ہے، جہاں متاثرہ طبقات اور عوام کو اپنی رائے دینے کا موقع ملتا ہے، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین ترامیم پیش کر کے بحث کرتے ہیں۔ تاہم حکومتی پارلیمانی رہنما اسٹیو کلارک نے گزشتہ ہفتے عندیہ دیا تھا کہ اس بجٹ بل کے لیے اس معمول کے عمل کو نظرانداز کیا جائے گا۔
اس مجوزہ قانون میں نہ صرف صوبائی ماحولیاتی اداروں سے متعلق تبدیلیاں شامل ہیں بلکہ ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت کی قیمتوں پر حد مقرر کرنے اور سب سے بڑھ کر معلومات تک رسائی کے قوانین میں ترمیم بھی شامل ہے، جسے سب سے زیادہ متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بل کئی ہفتوں سے کمیٹی مرحلے میں موجود تھا مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔
مجوزہ ترمیم کے تحت معلومات تک رسائی کا قانون ماضی سے نافذ العمل ہو گا، جس کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان سمیت ان کے دفاتر کو سرکاری دستاویزات تک عوامی رسائی سے تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ خود وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے تسلیم کیا ہے کہ اس اقدام کا ایک مقصد ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان کے ذاتی ٹیلی فون ریکارڈ تک رسائی کی درخواستوں کو روکنا بھی ہے۔
اونٹاریو کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی اور لبرل پارٹی دونوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ رات کے وقت اجلاس بلا کر متنازع تبدیلیوں کو جلد بازی میں منظور کرانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن رہنما میریٹ اسٹائلز نے کہا کہ یہ ترامیم دراصل حکومت کو اپنی سرگرمیوں کو عوام اور میڈیا سے چھپانے کا اختیار دینے کے مترادف ہیں، اور ان کی جماعت اس بل کی منظوری روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
اسی طرح عبوری لبرل رہنما جان فریزر نے بھی ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اندھیرے میں ایسے قوانین منظور کر رہی ہے جو عوام کے بجائے خود حکومت کو تحفظ فراہم کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے متعدد قوانین تیزی سے منظور کرائے ہیں، جن میں رفتار ناپنے والے کیمروں پر پابندی، نگرانی میں استعمال ہونے والے مراکز کی بندش، تعلیمی وزیر کے اختیارات میں اضافہ اور ایک ایسا قانون بھی شامل ہے جو معدنیات یا معاشی ترقی کے نام پر بلدیاتی اور صوبائی قوانین کو معطل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اس متنازع بل پر بحث رات دس بجے کے بعد ختم ہوئی، جس کے بعد امکان ہے کہ اسے اگلے روز باقاعدہ طور پر قانون کی شکل دے دی جائے گی، جس سے صوبے میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔