اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا نے گزشتہ برس ہونے والے توانائی معاہدے کے اہم باقی نکات پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی اور وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے جمعے کے روز نئے منصوبے کی تفصیلات جاری کیں، جن میں صنعتی کاربن اخراج کی قیمت بڑھانے کا مکمل طریقۂ کار شامل ہے۔
معاہدے کے مطابق حکومتوں نے ہدف مقرر کیا ہے کہ ۲۰۴۰ تک صنعتوں پر کاربن اخراج کی حقیقی لاگت فی ٹن ۱۳۰ ڈالر تک پہنچائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے موجودہ نظام میں مرحلہ وار تبدیلیاں کی جائیں گی۔
موجودہ نظام کیا ہے؟
البرٹا میں تقریباً دو دہائیوں سے صنعتی کاربن قیمت بندی کا نظام نافذ ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ صنعتی مراکز جو سالانہ ایک لاکھ ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، انہیں مخصوص حد کے اندر رہنے کا پابند بنایا جاتا ہے۔
جو ادارے مقررہ حد سے کم اخراج کرتے ہیں، وہ کاربن کریڈٹ حاصل کرکے فروخت کر سکتے ہیں، جبکہ حد سے زیادہ اخراج کرنے والوں کو کریڈٹ خریدنا پڑتے ہیں، اپنی تنصیبات میں آلودگی کم کرنے والی ٹیکنالوجی لگانی پڑتی ہے یا صوبائی فنڈ میں رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکام کے مطابق موجودہ نظام مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ اگرچہ سرکاری طور پر کاربن کی قیمت ۹۵ ڈالر فی ٹن مقرر ہے، لیکن حقیقت میں صنعتوں کو اتنی رقم ادا نہیں کرنا پڑتی کیونکہ بازار میں کاربن کریڈٹ کی بہتات موجود ہے۔
اسی وجہ سے حقیقی یا مؤثر قیمت سرکاری نرخ کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے، جس سے صنعتوں پر اخراج کم کرنے کا دباؤ پیدا نہیں ہو پا رہا، کیونکہ سستے کریڈٹ خریدنا زیادہ آسان ہے۔
اب کیا تبدیلی ہوگی؟
نئے منصوبے کے تحت حکومتیں ۲۰۴۰ تک مؤثر قیمت ۱۳۰ ڈالر فی ٹن تک لے جائیں گی۔ اس کے لیے دو اقدامات کیے جائیں گے:
- سرکاری قیمت کو بتدریج بڑھایا جائے گا
- کاربن کریڈٹ کے لیے کم از کم قیمت مقرر کی جائے گی
یوں حقیقی قیمت کو ایک مخصوص حد کے اندر رکھا جائے گا تاکہ صنعتوں کو واضح سمت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا موقع مل سکے۔
ڈینیئل اسمتھ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے صنعتوں کو وقت اور اعتماد ملے گا تاکہ وہ آلودگی کم کرنے والے حقیقی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں، جبکہ ان کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر نہ ہو۔
البرٹا حکومت کے اندازے کے مطابق اگر صوبہ اپنا الگ کاربن نظام برقرار رکھتا ہے تو صنعتیں ۲۰۵۰ تک تقریباً ۲۵۰ ارب ڈالر کی بچت کر سکیں گی۔ دوسری صورت میں وفاقی نظام کے تحت ۲۰۳۰ تک کاربن قیمت ۱۷۰ ڈالر فی ٹن تک پہنچ جاتی۔