اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ مسلح افواج ملک میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ فوجی فارمیشنز کو ہر وقت چوکس رہتے ہوئے اعلیٰ ترین آپریشنل تیاری برقرار رکھنا ہوگی۔
سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہیں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے دوران صوبے میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی انتظامات اور سکیورٹی سے متعلق مختلف اقدامات کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
آپریشنل تیاریوں کا جائزہ
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خیبر پختونخوا میں تعینات فوجی فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
انہیں سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں فوجی دستوں کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ، جدید اسلحہ اور گولہ بارود کے ٹیسٹ کا مشاہدہ
فوجی دستوں کو اہم ہدایت
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس فورسز نے فارمیشنز کو ہر وقت چوکس رہنے اور اعلیٰ ترین سطح کی آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج قوم کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہیں اور ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔
افسران اور جوانوں کی تعریف
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تیاری کو سراہا۔انہوں نے ملک اور عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ثابت قدمی اور خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
یادگارِ شہداء پر حاضری
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
کور کمانڈر نے استقبال کیا
پشاور آمد پر کور کمانڈر پشاور نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور فوجی فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
