اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی ریسٹورنٹ صنعت کو سال2026 کے آغاز میں مالی دباؤ میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق کاروباری مالکان بڑھتی ہوئی مہنگائی، آپریشنل اخراجات میں اضافہ اور صارفین کے غیر مستقل اخراجات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
صنعتی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً نصف ریسٹورنٹ مالکان نے پہلے مالی سہ ماہی میں فروخت میں کمی رپورٹ کی ہے، جبکہ نصف سے زیادہ نے گاہکوں کی تعداد میں کمی بتائی ہے۔ اسی طرح اکہتر فیصد نے منافع میں کمی کی نشاندہی کی ہے۔
تنظیم کی صدر اور چیف ایگزیکٹو کے مطابق کینیڈا کے شہری روزانہ تقریباً تئیس ملین مرتبہ ریسٹورنٹس کا رخ کرتے ہیں، جس سے دس لاکھ سے زیادہ ملازمتیں جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق جب عوامی قوتِ خرید کمزور ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر اس صنعت پر پڑتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً چھتیس فیصد ریسٹورنٹس یا تو نقصان میں چل رہے ہیں یا بمشکل اخراجات پورے کر رہے ہیں، جو کہ دو ہزار انیس کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، مزدوری کے بڑھتے اخراجات اور گاہکوں کی کمی اس صنعت کے بڑے مسائل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ دو ہزار پچیس میں معمولی ترقی کے بعد دو ہزار چھبیس میں تجارتی فوڈ سروس سیلز میں اعشاریہ دو فیصد کمی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے دوران کچھ عرصے کے لیے سیلز ٹیکس میں عارضی رعایت دی گئی تھی، جس میں ریسٹورنٹ کھانوں سمیت بعض اشیاء پر ٹیکس میں کمی شامل تھی۔
مجموعی طور پر رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ ریسٹورنٹ صنعت سب سے پہلے متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے، اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو مزید کاروبار بند ہونے کا خدشہ موجود ہے۔