اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی بحریہ کے لیے نئی نسل کی آبدوزوں کے بیڑے کی تیاری کا عالمی مقابلہ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت اس وقت دو حتمی پیشکشوں کا جائزہ لے رہی ہے: جنوبی کوریا کی ہنوا اوشین اور جرمنی کی تھیسن کروپ میرین سسٹمز۔
یہ منصوبہ رائل کینیڈین بحریہ کے لیے تقریباً بارہ نئی آبدوزوں کی فراہمی پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی لاگت اربوں ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ حکومت اس عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے اور امکان ہے کہ حتمی فیصلہ جون کے آخر تک ہو جائے گا۔
جرمن کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کی آبدوزیں پہلے ہی نیٹو کے کئی ممالک میں استعمال ہو رہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کی کمپنی تیز تر فراہمی اور بڑے پیمانے پر معاشی فوائد کی پیشکش کر رہی ہے، جس میں ہزاروں ملازمتوں کا امکان بھی شامل ہے۔
کینیڈا کا موجودہ آبدوزی بیڑا پرانا ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ دو ہزار پینتیس تک مکمل طور پر سروس سے باہر ہو جائے گا۔ اس وقت موجود چار آبدوزوں میں سے صرف ایک کو مکمل طور پر فعال سمجھا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی خریداریوں میں سے ایک ہو سکتا ہے، جس کے طویل مدتی دفاعی اور معاشی اثرات متوقع ہیں۔