عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواست واپس

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے بعد واپس کردی۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف حکومتی نظرثانی درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست کے ساتھ متعلقہ پیپر بکس مکمل نہ ہونے پر اعتراض کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی درخواست میں ضروری دستاویزات اور پیپر بکس مکمل طور پر منسلک نہیں کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے رجسٹرار آفس نے درخواست کو اعتراض لگا کر واپس کردیا۔

  دوبارہ درخواست دائر ہوگی

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کیے جائیں گے، جس کے بعد عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست کو مقررہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد دوبارہ سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

 ہسپتال منتقلی کا حکم  

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دو روز قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالتی حکم کے باوجود تاحال عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔عدالت کی جانب سے ہسپتال منتقلی کا حکم عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق معاملات کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔

  نظرثانی درخواست 

بعد ازاں چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :خواجہ آصف کا پی ٹی آئی پر طنز، عمران خان کے معاملے پر این آر او کی خواہش کا الزام

تاہم رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر اعتراضات عائد کیے جانے کے بعد اسے واپس کردیا گیا ہے۔ اب حکومت کی جانب سے اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

یوں عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر عدالتی حکم کے ساتھ ساتھ حکومتی نظرثانی درخواست بھی آئندہ کارروائی کے لیے اہم بن گئی ہے۔

ہمیں فالو کریں