اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین اقتصادی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی امریکی معاشی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو معاہدے کے لیے امریکا کی جانب سے بڑا موقع دیا گیا، لیکن ایران نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق اب امریکا ایران کے خلاف ایسی اقتصادی کارروائی شروع کررہا ہے جس کی شدت اور وسعت غیر معمولی ہوگی۔
امریکی صدر نے اس مہم کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنا اور اس کی مالی و تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی
ٹرمپ کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف صرف روایتی پابندیوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ اس مرتبہ تہران کے ساتھ جڑے ہوئے مالی، تجارتی اور کاروباری نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی صدر نے تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی تبادلوں، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹری اور فرنٹ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کا بنیادی مقصد ایران کے لیے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات فروخت کرنا، رقم حاصل کرنا اور بین الاقوامی تجارت جاری رکھنا مشکل بنانا ہے۔
اگر یہ اقدامات وسیع پیمانے پر نافذ کیے جاتے ہیں تو ایران کی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی کئی برس سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔
ایران کی تیل آمدنی خطرے میں
ایران کی معیشت میں تیل کی برآمدات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تہران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے باوجود مختلف ذرائع سے تیل کی فروخت جاری رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
امریکا اگر ایران کے تیل کی خریداری، ترسیل اور ادائیگی کے نظام سے وابستہ کمپنیوں اور اداروں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرتا ہے تو ایران کے لیے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایرانی حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدات، کرنسی اور سرکاری اخراجات کے حوالے سے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
تاہم ایران ماضی میں بھی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف متبادل تجارتی راستے استعمال کرتا رہا ہے، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکی اقدامات ایران کی معیشت کو مکمل طور پر عالمی نظام سے کاٹ دیں گے۔
عالمی تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے
ٹرمپ کے اعلان کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی کارروائی صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط رکھنے والے دوسرے ممالک بھی دباؤ میں آسکتے ہیں۔
اگر امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں پر پابندیاں عائد کیں تو کئی ممالک کے لیے مشکل صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
ایسے ممالک جن کے ایران کے ساتھ تجارتی، توانائی یا مالیاتی مفادات ہیں، انہیں امریکا کے دباؤ اور اپنے قومی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
اس سے عالمی تجارت میں مزید تقسیم پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، کیونکہ مختلف ممالک امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے متبادل مالیاتی اور تجارتی نظام تلاش کرسکتے ہیں۔
چین کا کردار اہم ہوگا
ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم میں چین کا کردار انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔ چین ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور دیگر شعبوں میں روابط موجود ہیں۔اگر امریکا ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے چینی اداروں کو بھی نشانہ بناتا ہے تو اس کے اثرات امریکا اور چین کے تعلقات پر پڑسکتے ہیں۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکا اور چین پہلے ہی تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ کے معاملے پر ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ ایران کے معاملے پر مزید اختلاف دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
ایران کے خلاف سخت اقتصادی کارروائی کا سب سے بڑا عالمی اثر تیل کی منڈی پر پڑسکتا ہے۔اگر ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی آتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا۔ رسد میں کمی کی صورت میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر دنیا بھر کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف کا مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم، پائیدار امن کو ناگزیر قرار دے دیا
تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک پہنچتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کی صورت میں صورتحال اور بھی سنگین ہوسکتی ہے، کیونکہ خطے میں توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق کئی اہم راستے موجود ہیں۔
ایران کے خلاف فوجی کامیابی کا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کو پہنچنے والے فوجی نقصانات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ ختم ہوچکی، فضائیہ تباہ ہوچکی اور فوجی فیکٹریاں ملبے میں تبدیل ہوگئی ہیں۔امریکی صدر نے ایرانی کرنسی کی صورتحال کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کو پہلے ہی شدید نقصانات کا سامنا ہے۔ان دعوؤں کا مقصد بظاہر یہ تاثر دینا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے بعد اب معاشی محاذ پر بھی انتہائی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
جوہری پروگرام بھی تنازع کا مرکز
ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ایران کا جوہری پروگرام طویل عرصے سے امریکا اور تہران کے درمیان تنازع کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔ واشنگٹن ایران کے جوہری عزائم کو اپنے اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔اسی لیے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ اور سکیورٹی ضمانتیں اہم معاملات ہوسکتے ہیں۔
کیا ایران دباؤ میں آکر مذاکرات کرے گا؟
ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا بھی ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو معاہدے کا موقع دیا گیا تھا لیکن تہران نے اسے قبول نہیں کیا۔تاہم یہ ضروری نہیں کہ سخت معاشی پابندیاں لازماً ایران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کردیں۔ معاشی دباؤ بعض اوقات حکومتوں کو مذاکرات کی طرف لے جاتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں اس کے برعکس قومی مزاحمت اور سخت سیاسی مؤقف میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ایران پہلے ہی کئی سال سے پابندیوں کا سامنا کررہا ہے اور اس نے معاشی مشکلات کے باوجود اپنا سیاسی اور علاقائی مؤقف برقرار رکھا ہے۔
امریکا کے اتحادیوں کے لیے بھی امتحان
ٹرمپ نے اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں امریکا کا ساتھ دیں۔لیکن امریکا کے تمام اتحادی ایران کے معاملے پر واشنگٹن کی ہر پالیسی کی حمایت کریں گے، یہ ضروری نہیں۔ یورپ اور ایشیا کے بعض ممالک کے ایران کے ساتھ اپنے تجارتی اور توانائی کے مفادات ہیں۔
اگر امریکا نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے اتحادی ممالک کی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنا شروع کردیں تو امریکا اور اس کے بعض اتحادیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور خطے میں کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات براہ راست یا بالواسطہ پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔
خاص طور پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہوسکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی توانائی کی بڑی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، اس لیے عالمی تیل کی قیمت بڑھنے سے درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی اور عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت بھی نئی پابندیوں اور علاقائی کشیدگی سے متاثر ہوسکتی ہے۔
اقتصادی جنگ کا اصل نتیجہ کیا ہوگا؟
ٹرمپ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ اعلان ایران کے خلاف امریکی دباؤ کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد ایران کی مالی آمدنی، تیل کی تجارت، عالمی کاروباری روابط اور مالیاتی رسائی کو محدود کرنا ہے۔
لیکن اس مہم کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا۔ اگر امریکا ایران کے تجارتی راستوں کو مؤثر انداز میں محدود کرنے میں کامیاب ہوگیا تو تہران پر شدید معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر ایران متبادل راستے برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور دوسرے بڑے ممالک نے امریکی دباؤ کو مکمل طور پر قبول نہ کیا تو نتائج محدود بھی ہوسکتے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا یہ اقتصادی جنگ ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف لے جائے گی یا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی۔
فی الحال ٹرمپ کے اعلان نے واضح کردیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف دباؤ کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اگر اس کے ساتھ سفارتی راستہ بند ہوگیا تو عالمی منڈی، مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور خطے کی سیاست پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔
